Urdu book · راہِ عمل

اسلام اکیسویں صدی میں

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام اکیسویں صدی میں انسان آج ایک نئے نظریے کی تلاش میں ہے۔ جو لوگ جدید انسان کو یہ نظریہ فراہم کر دیں وہی اکیسویں صدی کی دنیا کے قائد ہوں گے۔ یہ نیا نظریہ بریڈلے (F. H. Bradley) کے الفاظ میں ایک نیا مذہب (new religion) ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو بریڈلے کا نیا مذہب حقیقتاً وہی چیز ہے جس کو غیر محرف مذہب کہا جاتا ہے۔ بریڈلے اگر محرف اور غیر محرف کے فرق کو جانتا تو یقیناً وہ اپنے مطلوب مذہب کو بتانے کے لیے غیر محرف مذہب کا لفظ استعمال کرتا۔ مگر اس فرق سے نا آشنا ہونے کی بنا پر اس نے ”نیا مذہب“ کا لفظ استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج جدید انسان جس چیز کی تلاش میں ہے وہ صرف اسلام ہے۔ جو فطرت کا دین ہے اور تحریف سے پاک ہونے کی وجہ سے کامل سچائی کا حامل ہے۔ اگرچہ اس سے نا آشنا ہونے کی بنا پر انسان اپنے مدعا کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ بولتا ہے۔ مثلاً نیا نظریہ، نیا مذہب، نیا نظام، نیا انقلاب وغیرہ۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر انسان ایک فکری خلاصے سے دوچار ہوا ہے۔ اس نے اپنی سابقہ فکری بنیاد مکمل طور پر کھود دی ہے۔ اب اس کو نئی فکری بنیاد کی تلاش ہے جس کے اوپر وہ اپنے آپ کو کھڑا کر سکے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں میں جاپان کا تجربہ نقل کروں گا۔ جاپان کی مثال جاپان کا موجودہ شاہی خاندان پچھلے 15 سو سال سے جاپان پر حکومت کرتا رہا ہے۔ جاپانی لوگ اپنے بادشاہ کو خدا (Kami) کہتے تھے۔ وہ اس کو خدائی اوصاف کا مالک سمجھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page