اسلام اکیسویں صدی میں
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے، مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد وہ اپنے بادشاہ کو صرف ایک انسان (Hito) سمجھنے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی جاپانیوں کے لیے ایک زبردست فکری بھونچال کے ہم معنی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس سے جاپانی اپنے بادشاہ کو خدا سمجھتے آ رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے بادشاہ کے اندر خدائی صفات ہیں۔ اور وہ ہر طاقت کے مقابلے میں ان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تو اچانک جاپان کی فوجی طاقت ختم ہو گئی۔ 15 سو سال میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کسی خارجی طاقت کے مقابلے میں مکمل شکست کھا گیا۔ جاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو نے 15 اگست 1945 کو ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں اور ہم امریکہ کے مقابلے میں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ جاپانیوں کے لیے اپنے خدائی بادشاہ کا یہ کلام انتہائی غیر متوقع تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا بادشاہ خدا ہے، اس لیے کوئی قوم اس کو شکست نہیں دے سکتی۔ مگر جب بادشاہ نے خود اپنی شکست کا اقرار کر لیا تو انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا بادشاہ صرف ایک انسان ہے، وہ کوئی برتر خدا نہیں۔ یہ واقعہ جاپانیوں کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ ایٹم بم نے وقتی طور پر ان کے دو شہروں کو تباہ کیا تھا۔ مگر عقیدے کی اس محرومی نے جاپانیوں کی اندرونی شخصیت کو مستقل طور پر برباد کر دیا ہے۔ جاپان کی نئی نسل سخت مایوسی (frustration) کا شکار ہے۔ انہوں نے روحانی اعتبار سے اپنا سر چشمۂ اعتماد (source of confidence) کھو دیا ہے۔ جاپانی قوم آج ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے۔ اور یہی اس وقت جاپان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ صورتِ حال جو جاپان کے ساتھ پیش آئی، یہی ایک یا دوسری صورت میں، موجودہ زمانے کی تمام قوموں کا حال ہے۔ ہر ایک نے اس ”خدا“ کو کھو دیا ہے جس پر وہ روایتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader