Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر قائم تھا۔ اسی کے ساتھ ہر ایک، شعوری یا غیر شعوری طور پر، ایک نئے خدا کی تلاش میں ہے جس کو وہ اپنے کھوئے ہوئے خدا کا بدل بنا سکے۔ یہ معاملہ محض اتفاقی نہیں بلکہ حقیقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اور مذہب کوئی اوپری یا خارجی معاملہ نہیں، یہ انسان کی سب سے بڑی اندرونی طلب ہے۔ یہ اس کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ اس کو کسی طرح انسان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ نفسیات اور ایتھراپالوجی کی ریسرچ نے اس کو آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ انسان خدا اور مذہب کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ (Encyclopedia Britannica, 15/628) اس بات کو ایڈمنڈ برک (Edmund Burke, 1729-1797) نے مختصر طور پر ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ انسان اپنی تشکیل کے اعتبار سے ایک مذہبی حیوان ہے: “Man is by his constitution a religious animal.” (Reflections on the Revolution in France, London, p.135) یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان خود اپنی اندرونی فطرت کے زور پر ایک سچے اور حقیقی خدا کی تلاش میں ہے جو اس کی ہستی کے پورے تقاضے کا جواب بن سکے۔ خدائے واحد کی تلاش اہل اسلام کے سوا دنیا میں جو قومیں آباد ہیں ان کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی اعتبار سے شرک میں مبتلا رہی ہے۔ مجوس دو خدا کو مانتے ہیں۔ مسیحیت میں تین خدا کا عقیدہ ہے۔ ہندو دھرم میں خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہندو دیوتاؤں کی تعداد 33 کروڑ (33,000,000) ہے۔ (Encyclopedia Britannica, 14/787) یہ مشرکانہ عقیدہ جو بیشتر لوگوں کو اپنے ماضی سے ملا تھا، اس نے موجودہ زمانے میں انہیں سخت قسم کی تضاد فکری میں مبتلا کر دیا ہے۔ کیوں کہ جدید علم (science) نے انہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page