Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

2. Nuclear Power Both Sides, by Jennifer Trainer, and Michio Kaku, New York, 1982. اس علمی دریافت نے انسان کو آج عین عقیدہ توحید کے کنارے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب وہ آخری وقت آ گیا ہے جب کہ انسان کے سامنے ایک خدا کا نظریہ پیش کیا جائے اور وہ اس کو عین اپنے دل کی آواز سمجھ کر اسے قبول کرلے۔ آزادانہ تحقیق کا نتیجہ قدیم زمانے میں مذہب کو صرف تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگوں کے ذہنوں پر یہ تصور چھایا ہوا تھا کہ مذہبی عقائد اس سے بلند ہیں کہ ان کو کسی جانچ اور بحث کا موضوع بنایا جائے۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس کے زیر اثر جو فکری انقلاب آیا ہے، اس نے تحقیق (inquiry) کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دے دیا ہے۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز کی آزادانہ تحقیق (free inquiry) ہونی چاہیے۔ کسی بات کو صرف اس وقت ماننا چاہیے جب کہ آزادانہ تحقیق کی کسوٹی پر وہ ثابت شدہ بن گئی ہو۔ جدید انسان نے اس فکر کا استعمال جس طرح جامد مادہ کی دنیا میں کیا، اسی طرح اس نے اس کا استعمال مذہب پر بھی کیا۔ مذہبی کتابوں اور ان کی تعلیمات کی جانچ کی جانے لگی۔ اس جانچ نے پہلی بار خالص علمی سطح پر یہ ثابت کیا کہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر ہیں، علمی اور تاریخی اعتبار سے وہ قابل اعتماد نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ مسیحیت کی بنیاد تثلیث (trinity) کے عقیدہ پر قائم ہے۔ آپ کسی مسیحی عالم سے عقیدہ خدا پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا کہ خدا کی فطرت تثلیث ہے: "The nature of God is trinity." تثلیث کا مطلب، ارباب چرچ کی تشریح کے مطابق، تین میں ایک، ایک میں تین (3 in one, one in 3) ہے۔ اب آج کا انسان جوہر معاملے کو عقل سے سمجھنا چاہتا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page