آزادانہ تحقیق کا نتیجہ
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ عیسائی عالم سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اور ایک اور ایک مل کر ایک ہوں : How can 1+1+1=1? مسیحی عالم پہلے ناقابل فہم اصطلاحوں میں اس کو سمجھانا چاہے گا اور جب وہ دیکھے گا کہ جدید ذہن اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہورہا ہے تو آخر کار وہ کہہ دے گا کہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہم سمجھ نہیں سکتے: “These are things that we cannot understand.” مگر اس قسم کا کوئی جواب جدید انسان کے لیے ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب وہ کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو کائنات پوری طرح معلوم ریاضیاتی ڈھانچہ (mathematical frame) میں ڈھل جاتی ہے۔ چنانچہ ایک سائنس داں کو اسے دیکھ کر یہ کہنا پڑا کہ کائنات کا خالق ایک اعلیٰ درجہ کا ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) ہے۔ مگر خود خالق کے عقیدے کو مسیحیت جس انداز میں پیش کرتی ہے وہ سراسر غیر ریاضیاتی اور غیر عقلی ہے۔ اس صورت حال نے جدید انسان کو ایک نازک مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ اپنی فطرت کے زور پر وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے خدا کو پائے۔ وہ خالق کائنات پر ایمان لا کر اس کا پرستار بن جائے۔ مگر مروجہ مذاہب اس کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کر رہے ہیں وہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور اس کے علمی اور عقلی ڈھانچے کے بھی خلاف۔ اس طرح جدید فکری انقلاب نے آج کے انسان کو عین اسلام کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ انسان کے سامنے توحید کا سچا تصور پیش کیا جائے جو فطرت اور علم دونوں کے عین مطابق ہے۔ یہاں دونوں باتوں میں وہ ٹکراؤ نہیں جو موجودہ محرف مذاہب میں پایا جا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader