مذاہب کا تضاد
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
مذاہب کا تضاد آج کل روزانہ اخبارات ورسائل میں ایسی خبریں آرہی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح فلاں شخص اپنے آبائی مذہب سے بدظن ہو کر اسلام میں داخل ہو گیا۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ الدعوۃ (ریاض) نے اپنے شمارہ 17 اگست 1989ء (صفحہ 14) میں یہ خبر چھاپی ہے کہ زائیر کی راجدھانی کن شاسا (Kinshasa) کے ایک قسیس (priest) جو مقدس جان (Holy John 23) کہے جاتے تھے۔ ان کا نام مویا دا مویا تھا، انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان کا نیا نام عثمان وامو یا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اسلام کیوں قبول کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ انجیلوں کے داخلی تناضنات نے انہیں مسیحیت سے بدظن کر دیا۔ مثلاً یہ انجیلیں حضرت مسیح کو کبھی اللہ کا بندہ کہتی ہیں اور کبھی اللہ کا بیٹا (إِذَا تَقَرَّ أُحْيَانًا أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ تَزْعُمُ أَنَّهُ ابْنُ اللَّهِ)۔ ایک شخص جب انجیل پڑھتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ متی کی انجیل میں حضرت مسیح کا جو نسب نامہ ہے اس میں حضرت مسیح کو مسیح ابن داؤد (Christ, the son of David) لکھا گیا ہے۔ اس کے بعد جب پڑھنے والا مرقس کی انجیل تک پہنچتا ہے تو وہ دیکھता ہے کہ وہاں جو اندراج ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ مرقس کی انجیل کی پہلی آیت میں اس کے برعکس، مسیح ابن خدا (Christ, the son of God) کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ گویا ایک ہی شخصیت کو ایک جگہ خدا کا بیٹا بتایا گیا ہے اور دوسری جگہ انسان کا بیٹا۔ اس قسم کے بے شمار تناقضات ہیں جن سے موجودہ انجیلیں بھری ہوئی ہیں۔ یہ واقعہ آدمی کو یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ موجودہ بائبل اگر خدا کی کتاب ہے تو انسانی تحریفات نے اس کی ابتدائی شکل کو بالکل بدل ڈالا ہے۔ اگر وہ اپنی ابتدائی شکل میں ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے اندر اس قسم کے کھلے کھلے تضادات پائے جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader