Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

اس صورتِ حال نے جدید انسان کو تمام مذاہب کی کتابوں سے بدظن کر دیا ہے۔ تاہم وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے باوجود اس کو ایک مذہب کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ مذہب کی طلب انسان کی فطرت میں پیوست ہے، وہ عملی زندگی میں اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے ۔ وہ محرف مذاہب سے بیزار ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ غیر محرف مذہب کا شدت سے طلب گار بنا ہوا ہے۔ اسی حالت میں اگر اس کے سامنے اسلام کو پیش کیا جائے تو یہ پیاسے کے سامنے پانی پیش کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ وہ اس سے واقف ہوتے ہی فوراً اس کو اپنی چیز سمجھ کر اسے اپنا لے گا۔ اخوت ومساوات کا مذہب انسان اور انسان کے درمیان فرق یا عدم مساوات قدیم ترین زمانے سے چلا آ رہا ہے ۔ قدیم زمانے میں توہمات (superstitious) کا غلبہ تھا۔ انسان طرح طرح کے توہماتی عقائد کے تحت انسانوں کے درمیان اس غیر مساوی تقسیم کو برحق سمجھے ہوئے تھا۔ مثلاً یہ کہ سفید فام لوگ کسی اعلیٰ مادہ تخلیق سے بنے ہیں اور سیاہ فام لوگ کسی ادنیٰ مادہ تخلیق سے۔ چنانچہ کچھ لوگ نسلی اعتبار سے برتر (superiors) ہیں اور کچھ لوگ ان سے کمتر (inferiors)۔ موجودہ زمانے میں سائنسی افکار نے اس قسم کے عقیدے کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ عدم مساوات کو جائز قرار دینے والے تمام عقائد سراسر فرضی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کی کوئی واقعی بنیاد نہیں۔ موجودہ زمانے میں نسلی امتیاز کے افسانوں (racial myths) کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کثرت سے علمی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک اہم کتاب کا نام یہ ہے: I. Comas, The Race Question in Modern Science, 1956

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page