Urdu book · راہِ عمل

اخوت و مساوات کا مذہب

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

اب انسان اپنے آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا ہوا پاتا ہے۔ ایک طرف اس کا آبائی اور روایتی مذہب ہے جس کی تعلیمات بدستور انسانی نابرابری کی تصدیق کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اس کا سائنسی علم ہے جو اس قسم کے کسی عقیدے کو سراسر لغو قرار دیتا ہے۔ جدید انسان یہ محسوس کر رہا ہے کہ اپنے آبائی مذہب کو مانتے ہوئے وہ سائنسی بنیاد پر اپنی زندگی کی تشکیل نہیں کر سکتا۔ یہاں صرف اسلام ہے جو غیر محرف ہونے کی بنا پر صحیح ترین تعلیمات کا حامل ہے نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات عین سائنسی حقائق سے ہم آہنگ ہیں بلکہ اسلام عملی طور پر بھی انسانی مساوات کی واحد شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ ایچ جی ویلز نے اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے نہ صرف لفظی طور پر انصاف اور مساوات کی تعلیم دی بلکہ اس نے عملی طور پر ایک ایسا سماج بنایا جو تاریخ کے کسی بھی پچھلے سماج سے زیادہ بے رحمی اور اجتماعی ظلم سے پاک تھا: “They created a society more free from widespread cruelty and social oppression than any society had ever been in the world before.” (p. 325) مشہور ہندو مصلح سوامی ویویکانند نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مذہب کبھی قابل لحاظ حد تک عملی مساوات کے درجے کو پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے: “My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone.” (Letters of Swami Vivekananda, p. 379) اسلام کے اس عملی پہلو نے اس کو اجارہ داری کی حد تک صداقت کا حامل بنا دیا ہے۔ آج کا انسان اخوت اور مساوات اور انصاف کی بنیاد پر جو انسانی سماج بنانا چاہتا ہے اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page