راہِ عمل
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ساری معلوم تاریخ میں عملی نمونہ صرف ایک ہے اور وہ اسلام کا نمونہ ہے۔ اقوام متحدہ کا ڈکلریشن آف ہيومن رائٹس موجودہ حالت میں صرف ایک لفظی یوٹوپیا ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے کوئی عملی نمونہ موجود نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات کی پشت پر ایک معلوم مثالی تاریخ ہے جو ان تعلیمات کو عملی نمونہ کے روپ میں پیش کر رہی ہے۔ یہ نمونہ انسان کو یقین دلاتا ہے کہ اعلیٰ اخلاقی تعلیمات قابلِ عمل بھی ہیں، نہ کہ محض لفظی خیال آرائی۔ مادی مذہب کی ناکامی قدیم زمانے میں مذہب کو مقدس سمجھنے کی وجہ سے اس کے بارے میں تحقیق و تنقید کا ذہن پیدا نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانے میں جب ذہنی آزادی آئی تو دوسری تمام چیزوں کی طرح مذہب کو بھی تحقیق کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ مذہب کے آزادانہ مطالعہ کے لیے نئے نئے علوم پیدا ہو گئے۔ مثلاً تنقید عالیہ (higher criticism) اور تنقید متن (textual criticism) اور تاریخی تنقید (historical criticism)، وغیرہ۔ ان مطالععات سے معلوم ہوا کہ (اسلام کے سوا) تمام مذاہب اپنی موجودہ شکل میں سرے سے قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ اب ایک نیا ”مذہب“ وجود میں آیا جس کو مادیت (materialism) کہا جاتا ہے۔ فلسفیانہ اعتبار سے مادیت اس نظریہ کا نام تھا کہ ہر چیز جو اپنا وجود رکھتی ہے وہ اپنی نوعیت میں مادی ہے: “The theory that everything that really exists is material in nature.” اس فلسفیانہ تصور سے جو عملی نظریہ نکلا وہ یہ تھا کہ مادی خوشی حاصل کرنا ہی انسان کا اصل مقصد ہے۔ آدمی کو زیادہ سے زیادہ مادی اسباب حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ خوشی حاصل کر سکے۔ مگر یہ نظریہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے ناکام ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader