مادی مذہب کی ناکامی
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری سطح پر اس کا اظہار مادی سائنس تھی۔ سائنس کے میدان میں انسان نے تلاش و جستجو شروع کر دی۔ اس کو یقین تھا کہ سائنس کے ذریعے وہ تمام حقیقتوں کو آخری حد تک جان لے گا۔ مگر سائنس کے میدان میں انسان کی تلاش نے اس کو صرف مایوسی تک پہنچایا۔ سائنسی ذرائع کی محدودیت حقیقتِ کلی کی دریافت کے لیے انتہائی حد تک ناکافی ثابت ہوئی۔ سر جیمز جینز اپنی کتاب سائنس کا نیا پس منظر میں لکھتے ہیں کہ طبیعیاتی سائنس مادہ اور ریڈی ایشن کی دنیا کا مطالعہ کرنے کے لیے اٹھی۔ مگر اس نے پایا کہ وہ دونوں میں سے کسی کی بھی نہ تصویر کشی کر سکتی اور نہ اس کی نوعیت کو بیان کر سکتی۔ فوٹان اور الیکٹران اور پروٹان طبیعیات داں کے لیے اتنے ہی بے معنی ہیں جیسا کہ الجبرا سیکھنے کے پہلے دن ایک چھوٹے بچے کے لیے ایکس، وائی، زیڈ۔ اس وقت ہم زیادہ سے زیادہ جس چیز کی امید کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم ایکس، وائی، زیڈ کو بڑھائیں بغیر یہ جانے کہ وہ فی الحقیقت کیا ہیں: "Physical science sets out to study a world of matter and radiation and finds that it cannot describe or picture the nature of either, even to itself. Photons. electrons and protons have been found as meaningless to the physicist as x.y.z are to a child on its first day of learning algebra. The most we hope for at the moment is to discover ways of manipulating x,y,z without knowing what they are." (The New Background of Science, Cambridge, 1933, p.5) سائنس کی ترقی نے، باعتبار نتیجہ صرف انسان کے احساس بے علمی میں اضافہ کیا ہے یہاں زیادہ جاننا صرف کم جاننے کو ثابت کر رہا ہے۔ آئن سٹائن نے اس حقیقت کو ان لفظوں میں بیان کیا کہ موجود سائنس کی حقیقت ایک ناقابل فہم سے دوسرے ناقابل فہم کو اخذ کرنا ہے: "Extracting an incomprehensible from another incomprehensible." (The New Background of Science, p.5)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader