Urdu book · راہِ عمل

مادی مذہب کی ناکامی

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

ناکامی کا یہی تجربہ عملی اعتبار سے بھی پیش آیا ہے۔ جدید حالات نے انسان کو موقع دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمائے۔ وہ زیادہ سے زیادہ ساز و سامان جمع کر سکے۔ جدید انسان نے پورے جوش وخروش کے ساتھ اس کے لیے جدوجہد شروع کردی۔ مگر دولت کے انبار اور راحت کے سامانھوں کے ڈھیر جمع کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ چیزیں آخر کار اس کو جہاں پہنچاتی ہیں وہ صرف اکتاہٹ (boredom) ہے۔ ہر قسم کے مادی اسباب فراہم کرنے کے باوجود انسان کو حقیقی سکون حاصل نہ ہوسکا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جب دولت کمانے کے عالمی امکانات کھول دیے اور راحت کے نئے نئے سامانھوں سے بازار جگمگا اٹھے تو انسان نے سمجھا کہ وہ دنیا ہی میں اپنا عیش خانہ بنا سکتا ہے۔ اب اس کو آخرت کی جنت کی ضرورت نہیں۔ مگر انسان اس کو بھول گیا کہ اس کے حوصلوں کی راہ میں طرح طرح کی حد بندیاں (limitations) اور ناخوش گواریاں (disadvantage) حائل ہیں۔ چنانچہ دولت اور سامان کا انبار جمع کرنے کے بعد بھی سچا سکون اور سچی خوشی انسان کو حاصل نہ ہوسکی۔ 1989 میں امریکہ میں 358 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا تعلق امریکہ کے اعلیٰ ترین دولت مندوں سے ہے: The Ultra Rich, by Vance Packard. New York اس کتاب میں امریکہ کے تیس ایسے بڑے دولت مندوں کے احوال درج ہیں جن کی دولت 1987 میں 465 ملین ڈالر یا اس سے زیادہ تھی، مصنف نے ان تمام دولت مندوں سے ذاتی طور پر انٹرویو لیا۔ انہوں نے پایا کہ ان میں سے ہر شخص بے اطمینانی کا شکار تھا۔ ان لوگوں کے پاس اتنے بڑے بڑے مکانات ہیں کہ ان کے احاطے میں 707 بوئنگ جہاز اتر سکتا ہے۔ مگر ایک دولت مند کے الفاظ میں، اس کے گھر کا وسیع چمن اس کو ایک قسم کا سر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page