Urdu book · راہِ عمل

پیغمبرانہ رہنمائی

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ آپ مسلمانوں کے سیرۃ النبی کے جلسوں میں شرکت کیجیے۔ آپ مسلم اخبارات و جرائد کے سیرت نمبر کو دیکھیے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے سیرت رسول کے موضوع پر جو بے شمار کتابیں لکھی ہیں، ان کا مطالعہ کیجیے۔ ان کا خلاصہ، تقریباً بلا استثناء صرف ایک نکلے گا، اور وہ فخر ہے۔ مسلمانوں نے اپنے رسول کو اپنے لیے ایک قسم کا قومی فخر بنا لیا ہے، اور مختلف طریقوں سے اس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام ہمارے لیے بطور فخر نہیں بھیجے گئے، بلکہ آپ بطور نمونہ بھیجے گئے۔ قرآن میں کہا گیا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ (33:21) سارے قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰهِ مَفْخَرَةٌ حَسَنَةٌ۔ (اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین فخر ہے) مسلمانوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قرآن کی کسی آیت کو بدل دیں۔ چنانچہ قرآنی مصحف میں تو اب بھی یہی لفظ درج ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ مگر مسلمانوں کی اپنے عمل کی جو کتاب ہے اس میں انہوں نے بطور خود یہ لکھ دیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین فخر ہے۔ یہی اصل سبب ہے جس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ناکام بنا رکھا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ رسول اللہ کا اتنا زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کا کوئی فیض ان کے حصے میں نہیں آتا۔ اگر آپ کے پاس نہایت زرخیز قسم کی ایک ہزار ایکڑ زمین ہو، مگر آپ اس پر کاشت نہ کریں۔ البتہ صبح و شام اس پر فخر کرتے رہیں تو وہ زمین آپ کو کچھ بھی فائدہ دینے والی نہیں۔ زمین کا فائدہ آپ کو اس وقت حاصل ہوگا جب کہ آپ اس کو استعمال کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page