راہِ عمل
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح رسولؐ پر فخر کرنا مسلمانوں کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ البتہ اگر وہ رسول کو نمونہ عمل سمجھیں، اور آپ کے طریقے کو اپنی زندگی میں عملاً اختیار کریں تو یقیناً وہ ان عظیم فائدوں اور برکتوں کو حاصل کر سکتے ہیں جو اس نمونے کے اندر رکھے گئے ہیں۔ اعلیٰ کامیابی کا راز مذکورہ امریکی کتاب (The Hundred) کا مسلمانوں میں بہت چرچا ہے جس میں پیغمبر اسلام کو سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful) قرار دیا گیا ہے۔ اس مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے جذبہ فخر کو تسکین ملتی ہے۔ مگر قرآن کے نقطۂ نظر سے اصل اہمیت کی چیز آپ کا اسوہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہمیں ”سپر یملی سکسس فل“ سے زیادہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کی سپریم سکسس (supreme success) کا راز کیا تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کو فخر کے طور پر جانا، مگر انہوں نے آپ کو اسوہ کے طور پر نہیں جانا۔ وہ سپریملی سکسس فل پیغمبر کو جانتے ہیں، مگر وہ اس پیغمبر سے واقف نہیں جس نے اپنی کامل زندگی کے ذریعے سپریم سکسس کا راز بتایا ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ واضح ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے کسی بھی مسلمان کی تقریر کو سن کر یا اس کی تحریر کو پڑھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر 1980 کو اقوام متحدہ (نیو یارک) کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو انہوں نے دنیا بھر کے 90 کروڑ مسلمانوں کے دل کی آواز بتایا تھا۔ یہ تقریر مسلم حلقوں میں عام طور پر پسندیدگی کی نظر سے دیکھی گئی۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی قوموں نے موجودہ زمانے میں اپنے مذہب اور کلچر میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کیا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader