Urdu book · رہنماے حیات

دانش مند کون

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑے فائدے سے اپنے آپ کو محروم کر لینا۔ مذکورہ قول میں اسی دوسرے یا بظاہر نہ دکھائی نہ دینے والے پہلو کو معاملہ کا اضافی پہلو کہا گیا ہے۔ معاملہ کا ابتدائی پہلو ، یعنی زیادتی کرنے والے کی زیادتی، ہر آنکھ والا دیکھتا ہے مگر معاملہ کے دوسرے پہلو یا اضافی قدر (relative value) کو وہی شخص دیکھے گا جو گہری بصیرت کا حامل ہو اور اپنے اقدام کا فیصلہ عقلی غور و فکر کے تحت کرتا ہو نہ کہ محض وقتی جذبات کے تحت۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں اکثر معاملات میں یہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ غیر دانش مند آدمی صرف سامنے کی صورتِ حال کو دیکھ پاتا ہے اور اس کے مطابق کارروائی کر کے اپنے معاملے کو بگاڑ لیتا ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو معاملہ کے دیگر پہلوؤں کو دیکھ سکے۔ جو سامنے کی صورت حال سے اوپر اٹھ کر ان حقیقتوں کا ادراک کر لے جو اگرچہ مقامِ واقعہ پر موجود نہیں مگر آخر کار ظاہر ہو کر وہی فیصلہ کن بن جائیں گی۔ موجودہ دنیا اسی دانش مندی کا امتحان ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے دانش مند ثابت ہو وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو آدمی اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے اس کے لئے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page