راز حیات
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
پریس سے آپ چھپواتے ہیں وہ آپ سے زیادہ دام چارج کرتا ہے۔ آپ ہم کو اپنی فرمائش دیں، ہم کم نرخ پر ویسی ہی کتاب چھاپ کر آپ کو دیں گے۔ سفارت خانہ والے اس کے کہنے میں آگئے اور آزمائشی طور پر ایک کتاب کی چھپائی کا کام اس کے حوالے کر دیا۔ کچھ دنوں بعد جب پریس کی طرف سے کتاب کے پروف آئے تو وہ عام قاعدہ کے مطابق معمولی کاغذ کے ایک پلندے کی صورت میں تھے۔ نیز زیادہ اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے چھپائی بھی ویسی نہ تھی جیسی اصل کتاب کی ہوتی ہے۔ یہ پروف جب سفارت خانہ کے ذمہ دار کے سامنے آئے تو وہ ان کو دیکھ بگڑ گیا۔ وہ سمجھا کہ کتاب کی چھپائی کا معیار بھی یہی ہوگا۔ اس نے اس کو نااہل سمجھ کر اس کو دیا ہوا آرڈر منسوخ کر دیا اور دوبارہ سابقہ پریس سے فرمائش کی کہ وہ اس کا کام کرے۔ اگر آپ کے اندر کوئی جوہر ہے تو اس کی قیمت بہر حال آپ کو مل رہی ہے۔ لچک بھی ضروری ہے دکان دار کے یہاں ایک آدمی آیا۔ اس کو کپڑا خریدنا تھا۔ کپڑا اس نے پسند کر لیا مگر دام کے لیے تقریباً آدھ گھنٹہ تک تکرار ہوتی رہی۔ نہ دکاندار کم کرنے پر راضی ہوتا تھا نہ خریدار بڑھانے پر۔ آخر دکاندار نے اسی قیمت میں کپڑا دے دیا جس پر گاہک اصرار کر رہا تھا۔ ایک بزرگ اس وقت دکان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب گاہک چلا گیا تو انھوں نے کہا: جب تمہیں گاہک کی لگائی ہوئی قیمت پر کپڑا دینا تھا تو پہلے ہی دے دیا ہوتا۔ آخر اتنی دیر تک اس کا اور اپنا وقت کیوں ضائع کیا۔ "حضرت آپ سمجھے نہیں،" دکاندار نے کہا "میں اس کو پکا کر رہا تھا۔ اگر میں اس کی لگائی ہوئی قیمت پر فوراً سودا دے دیتا تو وہ شبہ میں پڑ جاتا اور خریدے بغیر واپس چلا جاتا۔ اس کے علاوہ میں یہ اندازہ کر رہا تھا کہ وہ کہاں تک جا سکتا ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ اس سے آگے بڑھنے والا نہیں ہے تو میں نے اس کو کپڑا دے دیا۔ جب دو فریقوں کے درمیان مقابلہ ہو تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ہر فریق اپنی اپنی مرضی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader