Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق معاملہ طے کرانا چاہتا ہے۔ ایسے موقع پر بلاشبہ عقل مندی کا تقاضا ہے کہ اپنی مانگ پر اصرار کیا جائے۔ مگر اسی کے ساتھ عقل مندی ہی کا دوسرا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی حدود کو جانے اور اس کے لیے تیار رہے کہ بالآخر کہاں پہنچ کر اس کو راضی ہو جانا ہے۔ اس اصول کو ایک لفظ میں توافق (Adjustment) کہ سکتے ہیں۔ یہ توافق زندگی کا ایک راز ہے۔ یہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا اہم ترین اصول ہے۔ اس اصول کی اہمیت ذاتی معاملات کے لیے بھی ہے اور قومی معاملات کے لیے بھی۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جاننے کے ساتھ دوسروں کو بھی جانے۔ موجودہ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دو طرفہ تقاضوں کی رعایت کر سکے۔ جو شخص یک طرفہ طور پر صرف اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑے اس کے لیے موجودہ دنیا میں ناکامی اور بربادی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔ مشتعل نہ ہو برٹرینڈ رسل ایک انتہائی آزاد خیال آدمی تھا۔ وہ اکثر ایسی غیر روایتی باتیں کرتا تھا جس سے قدامت پسند طبقہ بگڑ جاتا۔ اپنے ایک لیکچر کے دوران پیش آنے والا واقعہ وہ اس طرح نقل کرتا ہے: A man rose in fury, remarking that I looked like a monkey; to which I replied, ‘Then you will have the pleasure of hearing the voice of your ancestors.’ ایک آدمی طیش میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں ایک بندر دکھائی دیتا ہوں۔ میں نے اس کو جواب دیا: پھر تو آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ اپنے پرکھوں کی آواز سن رہے ہیں۔ (آٹو بيا گرافی، صفحه 565)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page