Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے مسائل کتنے نازک ہوتے ہیں۔ یہاں بے شمار مسائل ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ ہوتے ہیں کہ ایک کو چھیڑنے میں دوسرا متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماعی معاملات میں پڑنا صرف ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو معاملات کو دور اندیشی کی نگاہ سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو دوسرے کے سینے کا درد اپنے سینہ میں محسوس کریں۔ جن لوگوں کے اندر یہ دونوں صفات نہ ہوں وہ اگر اجتماعی اصلاح کے میدان میں کودتے ہیں تو وہ صرف جرم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے واحد صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں نہ یہ کہ احمقانہ اقدام کر کے مسائل میں اور اضافہ کرنے کا سبب بن جائیں۔ خود جاننا پڑتا ہے ٹیلر ماسٹر کو جب آپ کوٹ سینے کے لیے دیتے ہیں تو وہ آپ کے جسم کا ناپ لیتا ہے۔ ناپ لینے کا مقصد آپ کے جسم کی بناوٹ کا اندازہ کرنا ہے تا کہ کوٹ آپ کے جسم پر بالکل فٹ آ جائے اور اس میں کہیں شکن یا جھول نہ ہو۔ مگر ٹیلر ماسٹر جسم کے جن چند حصوں کا ناپ لیتا ہے اتنا ہی علم ایک کامیاب کوٹ تیار کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ایک صحیح کوٹ تیار کرنے کے لیے ٹیلر ماسٹر کو بہت سی اور باتیں بطور خود جاننی پڑتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کے نشیب و فراز اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ اس کے ہر حصے کا مکمل ناپ لیا جا سکے۔ ایک ٹیلر ماسٹر جسم کے جن حصوں کا ناپ لیتا ہے، اگر اس کی واقفیت بس اتنی ہی ہو تو وہ کبھی ایک معیاری کوٹ تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہی بات زندگی کے دوسرے معاملات کے لیے بھی صحیح ہے۔ ایک گھر چلانے کا معاملہ ہو یا دینی مشن چلانے کا۔ ملت کی تعمیر کی مہم ہو یا اسلام کی اشاعت کی، ہر ایک اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کہ اس کو ایسے افراد ہاتھ آ جائیں جو بتائے بغیر باتوں کو جانیں، جو تفصیلات جانے بغیر ہر موقع پر اطمینان بخش جواب پالیں۔ جو لوگ صرف فہرست میں درج شدہ باتوں کو جانیں اور جہاں فہرست ختم ہو وہیں اپنے کام کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page