راز حیات
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
بھی ختم سمجھ لیں، ایسے لوگ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے۔ اسی طرح جب کوئی مشن چلایا جاتا ہے، تو بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جن کے بارے میں پہلے سے اندازہ نہ تھا یا ان کے بارے میں پیشگی طور پر لوگوں کو خبر دار نہیں کیا جا سکا تھا۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ بتائے بغیر باتوں کو جان لیا کریں۔ اور اگر ان کا شعور اتنا ترقی یافتہ نہیں ہے تو ذمہ داروں پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو قبول کرلیں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق بنالیں۔ جس مشن کے افراد میں یہ صلاحیت نہ ہو وہ بار بار خود ساختہ شکایت لے کر بیٹھ جائیں گے، معاملات کی حقیقت جانے بغیر وہ بطور خود ایک رائے قائم کریں گے اور پھر روٹھ کر الگ ہو جائیں گے۔ کسی مشن کو کامیابی تک پہنچانے کے لیے بہت گہرا شعور اور بہت بڑا دل درکار ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو، وہ صرف تاریخ کے کوڑا خانہ میں جگہ پائیں گے، خواہ دیواری پوسٹروں میں وہ اپنے آپ کو تاریخ ساز کیوں نہ لکھتے رہیں۔ جدی نسل ٹائمز آف انڈیا (21 مئی 1985) میں مسٹر جارج منزیز نے اپنا قصہ شائع کیا ہے۔ انھیں ایک کالج کے سر کیمپ کا افتتاح کرنا تھا۔ مسٹر جی بی کھیّر جب بمبئی کے وزیر تعلیم تھے تو ان کے والد اس وقت وزارت تعلیم میں انڈر سیکر ٹری تھے۔ میٹرک کا رزلٹ آیا تو مضمون نگار کے بھائی ریاضی میں چند نمبروں سے فیل ہو گئے۔ ایک ماسٹر صاحب از راہ خیر خواہی طالب علم کے والد (انڈر سیکرٹری وزارت تعلیم) سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ماڈریٹر (Moderator) کو ایک ٹیلی فون کردیں اور سب معاملہ درست ہو جائے گا۔ مضمون نگار کا بیان ہے کہ ان کے والد نے اس کے جواب میں کہا کہ میرا لڑکا اگر فیل ہونے کا مستحق ہے تو اس کو فیل ہونے دیجیئے یہ واقعہ اس کو ایک اچھا سبق دے گا: If my son deserves to fail, let him fail. It will teach him a valuable lesson.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader