Urdu book · راز حیات

جدید نسل

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون نگار کہتے ہیں کہ مذکورہ سرکیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے میں نے یہ واقعہ بیان کیا تو طلبہ نے اس کو اس طرح سنا جیسے وہ بالکل غیر اہم بات ہو۔ حتیٰ کہ ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ کے والد کوئی بے وقوف آدمی ہوں گے۔ اگر وہ میرے ساتھ ایسا کرتے تو میں ان کو مار ڈالتا: Your father must have been a fool. I would have killed him if he had done that to me. آج کل کے نوجوانوں میں یہ مزاج عام ہے۔ ہندوستان میں بھی اور اسی طرح پاکستان میں بھی۔ اس مزاج کو پیدا کرنے کی اصل ذمہ داری لیڈروں پر ہے۔ لیڈروں نے اپنی مخالف حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے نوجوانوں کو بھڑکایا۔ وہ ان کی تخریبی کارروائیوں کو صحیح بتاتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ماضی کی تمام روایات ٹوٹ گئیں۔ آدمی کے سامنے اس کی خواہشات اور مفادات کے سوا کوئی چیز نہیں رہی جس کا وہ لحاظ کرے۔ احترام کی روایات کو توڑنے کا مزاج اگر ایک بار پیدا ہو جائے تو وہ کسی حد پر نہیں رہتا۔ غیروں کو بے عزت کرنے والے بالآخر اپنوں کو بھی بے عزت کر کے رہتے ہیں۔ خوش خیالی حقیقت کا بدل نہیں سڑک پر مجمع 21 نمبر کی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ اتنے میں ایک بس آتی دکھائی دی اور سارے لوگ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ ”اوہ! یہ تو 12 نمبر کی بس ہے۔“ ۔ بورڈ دیکھ کر ایک شخص بولا ۔ ”12 کو 21 کر لواور چلے جاؤ“۔ دوسرے نے کہا۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف مذاق تھا۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ گھر یا مٹی لے کر بس پر اپنا مطلوبہ نمبر لکھے اور اس پر بیٹھ کر سمجھے کہ اب وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ہے ۔ یہ ہندسہ کا فرق نہیں، حقیقت کا فرق تھا۔ اور حقیقت کے فرق کو ہندسہ کے فرق سے بدلا نہیں جاسکتا۔ یہ بات اپنی ذاتی زندگی کے معاملات میں ہر شخص جانتا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ ملت کے رہنما جب ملت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page