جدید نسل
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اٹھتے ہیں تو وہاں وہ اس انتہائی معلوم حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندسہ کو بدل کر وہ اُس کام کا کریڈٹ حاصل کر لیں جو اسباب کی اس دنیا میں صرف حقیقت کو بدلنے کے نتیجہ میں کسی کو ملتا ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں امتیاز اور لیاقت کی بنیاد پر لوگوں کو درجات ملتے ہیں، ہم مراعات اور تحفظات کے عنوان پر کانفرنس کر رہے ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں علمی اور اقتصادی طاقت کے بل پر قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں، ہم احتجاج اور مطالبات کے پوسٹر دیواروں پر چپکا رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں زبان و بیان نے بالکل نیا انداز اختیار کر لیا ہے، ہم اپنے روایتی کتب خانہ کے بورڈ پر ’’دور جدید‘‘ کا لفظ لکھنے کے لیے آرٹسٹ کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ ایک ایسا زمانہ جہاں عالمی ذہن نے سیاست کو سیکولر بنیادوں پر قائم کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، ہم عوام کا ذہن بدلے بغیر بیلٹ بکس سے اسلامی نظام برآمد کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی آبادی جہاں اختلاف اور شکایت کے گہرے مادی اسباب موجود ہیں، ہم لفظی تقریروں کے کرشمے دکھا کر حالات کو درست کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرہ میں جہاں ہم تعلیم، اقتصادیات، باہمی اتحاد ہر لحاظ سے تمام گروہوں میں سب سے پیچھے ہیں، ہم جلسوں اور کنونشنوں کے ذریعہ ملک کی قسمت بدلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ایک ایسا جغرافیہ جہاں ہمارے پاس اپنے تحفظ کی بھی طاقت نہیں، ہم ’’حریف کو نقصان پہنچاؤ‘‘ کا طریق کار اختیار کر کے با عزت زندگی حاصل کرنے کی تجویز میں پیش کر رہے ہیں۔ اس قسم کی تمام باتیں اسی طرح بے معنی ہیں جس طرح 12 نمبر کی بس پر 21 نمبر لکھ کر اپنی منزل کی طرف سفر شروع کرنا۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز ممکن بھی ہے اور ناممکن بھی۔ کسی چیز کو اگر اس کے فطری طریقہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور اس کے لیے ضروری اسباب فراہم کر دئے جائیں تو اس کا حصول اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے جیسے رات پوری ہونے کے بعد سورج کا نکلنا۔ لیکن اگر فطرت کے مقررہ طریقہ سے انحراف کیا جائے اور مطلوبہ چیز کے مطابق ضروری اسباب جمع نہ کیے جائیں تو اس کے بعد ناکامی اتنی ہی یقینی ہو جاتی ہے جتنی پہلی صورت میں کامیابی۔ عالم فطرت پر یہ انسان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader