راز حیات
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
حق ہے کہ وہ اس کو کامیاب کرے۔ مگر وہ کامیاب اس کو کرتا ہے جو اس کے مقررہ شرائط کو پورا کرنے کے لیے تیار ہو۔ بلا تحقیق 31 اکتوبر 1984 کو مسز اندرا گاندھی کا قتل ہوا۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ قتل کا یہ واقعہ وزیر اعظم کے حفاظتی دستے کے دو سکھ جوانوں نے کیا ہے تو سکھ فرقہ کے خلاف تشدد پھوٹ پڑا۔ یکم نومبر اور 2 نومبر کی درمیانی شب میں راقم الحروف دہلی (نظام الدین) میں اپنے مکان میں لیٹا ہوا تھا کہ گیارہ بجے رات کو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ دہلی کے پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے، اس لیے نل کا پانی استعمال نہ کیا جائے۔ چند منٹ بعد دوبارہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ایک اور صاحب نے یہی خبر سنائی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کی گھنٹی نے متوجہ کیا۔ باہر نکلا تو سڑک پر کئی نوجوان اسی خبر کو بتانے کے لیے کھڑے ہوۓ تھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر ایک وفد نے دروازہ کی گھنٹی بجا کر یہی خبر سنائی۔ جلد ہی بعد نظام الدین بستی کی مسجدوں میں لگے ہوۓ لاؤڈ اسپیکر گونجے اور مسلسل یہ اعلان کیا جانے لگا۔ خبر ملی ہے کہ پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے، آپ لوگ نلوں کا پانی بالکل استعمال نہ کریں۔ تقریباً دو گھنٹے تک ان خبروں اور اعلانات کا ہنگامہ لوگوں کی نیند کو درہم برہم کرتا رہا۔ خبر ملتے ہی ہم نے فوری طور پر یہ کیا کہ ریڈیو کھولا اور بارہ بجے رات اور ایک بجے رات کو دہلی ریڈیو سے نشر ہونے والا پروگرام سنا۔ دونوں بار ریڈیو نے واضح لفظوں میں بتایا کہ یہ افواہ بالکل غلط ہے کہ پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر باقاعدہ پانی کا ٹیسٹ لیا گیا ہے اور مکمل طور پر درست پایا گیا ہے۔ اس کے بعد ہم نے دہلی پولیس کو نمبر 100 پر ٹیلی فون کیا۔ انھوں نے بھی کہا کہ پانی میں زہر ملانے کی افواہ سراسر غلط ہے۔ پانی بالکل ٹھیک حالت میں ہے۔ جانچ کے بعد اس میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader