راز حیات
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
2 نومبر کی صبح کو اخبارات دیکھے تو پہلے ہی صفحہ پر دہلی میونسپل کمشنر مسٹر پی پی سری واستو کا یہ بیان موجود تھا کہ دہلی میں نل کا پانی بالکل صحیح ہے۔ اس کا بار بار ٹیسٹ لیا گیا ہے اور کسی طرح کی زہریلی آمیزش اس میں نہیں پائی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ 31 اکتوبر ہی سے پانی کے تمام فلٹریشن پلانٹ پر سخت حفاظتی پہرہ بٹھا دیا گیا ہے۔ سماجی زندگی میں اکثر بگڑ صرف اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ایک خبر سنتے ہیں اور بلا تحقیق اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اگر اسلام کے حکم کے مطابق خبروں کی تحقیق کی جانے لگے تو اکثر جھگڑے اور فساد پیدا ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں۔ تحقیق کیجئے ایک ہندوستانی حجاز گیا۔ ایک روز مدینہ میں اس کی ملاقات ایک عرب سے ہوئی۔ بظاہر وہ ایک بدو دکھائی دیتا تھا اور اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ وہاں چونکہ چور کے ہاتھ کاٹ دئے جاتے ہیں، ہندوستانی نے خیال کیا کہ یہ کوئی چور ہے۔ اس نے چوری کی تھی جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ہندوستانی کو اولاً اس سے ملنے میں کچھ کراہت محسوس ہوئی۔ پھر جبر کر کے اس کی طرف بڑھا اور اپنے عرب بھائی سے مصافحہ اور معانقہ کیا۔ گفتگو چلی تو اس نے بتایا کہ وہ مدینہ کے قریب ایک بستی "یتمہ" کا رہنے والا ہے۔ اس کے پاس کافی زمینیں ہیں جہاں 23 مکائن (ٹیوب ویل) لگے ہوئے ہیں۔ اس کے کھیتوں کی پیداوار بہت بڑی مقدار میں روزانہ مدینہ کے بازار میں آتی ہے۔ پھر اس کے ہاتھ کٹنے کا ذکر ہوا تو اس نے بتایا کہ 1948ء میں فلسطین کے معاملہ میں عربوں اور یہودیوں میں جو لڑائی ہوئی وہ اس میں شریک تھا۔ اس کے بازو میں چھ گولیاں لگیں۔ اس کے بعد وہ عرصہ تک اسپتال میں رہا۔ وہاں ڈاکٹروں نے ناگزیر سمجھ کر اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا۔ تا کہ پورے بازو کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader