Urdu book · راز حیات

جتنا دینا اتنا پانا

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑھتے مسٹر لانبہ مسلسل اس کے آگے کے اشعار سنانا شروع کر دیتے ۔ اس کے برعکس، جب مسٹر لانبہ نے اقبال کا کوئی مصرعہ پڑھا تو وہ اس کے آگے نہ سنا سکے۔ اقبالیات کے مقابلہ میں سرجیت سنگھ لانبہ جیت گئے اور امیر حسین لاہوری ہار گئے۔ کسی میدان میں کامیابی کی سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ اس میدان میں آدمی اپنے آپ کو وقف کر دے۔ زندگی کا ہر معاملہ گویا ایک شمع ہے۔ اور اس معاملہ میں وہی شخص سب سے زیادہ آگے بڑھے گا جو سب سے زیادہ اس شمع کے لیے تڑپا ہو، جس نے سب سے زیادہ اس شمع کے لیے رقص کیا ہو۔ زندگی لین دین کا سودا ہے ۔ یہاں دینے والا پاتا ہے۔ اور اتنا ہی پاتا ہے جتنا اس نے دیا ہو۔ یہاں نہ دیے بغیر پانا ممکن ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کم دے کر زیادہ کا حصہ دار بن جائے۔ دینے والے بنو باٹا شو کمپنی باٹا خاندان کے نام پر ہے ۔ یہ خاندان ابتداء چیکو سلواکیا میں رہتا تھا۔ 1620 میں انہوں نے جوتا بنانے کا کام شروع کیا۔ ٹامس باٹا سینئر (موجودہ باٹا کے والد) نے 1925 میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ بنایا۔ ٹامس باٹا سینئر اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں اڑ رہے تھے کہ ان کا جہاز گہرے کہرے میں پھنس کر گر گیا۔ اسی وقت وہ جل کر مر گئے۔ اس کے بعد سے ٹامس باٹا جونیئر باٹا لمیٹڈ کے پریزیڈنٹ ہیں۔ ان کی عمر اس وقت 68 سال ہے۔ باٹا کمپنی کا کاروبار اس وقت 114 ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ پچھلے سال اس کمپنی نے 315 ملین جوڑے جوتے ساری دنیا میں فروخت کیے ۔ اس کمپنی کا سب سے بڑا کاروبار کناڈا میں ہے۔ اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہندوستان میں ہے ۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page