راز حیات
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً 90 ہزار ہے۔ بالواسطہ کارکنوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ مسٹر ٹامس باٹا جونسیر 1983 میں چالیسویں بار ہندوستان آئے۔ اخباری نمائندے نے ایک ملاقات میں ان سے سوال کیا: آپ کی کامیابی کا واحد سب سے بڑا عامل کیا ہے جس نے آپ کو موجودہ کامیابی تک پہنچایا۔ مسٹر باٹا نے جواب دیا کہ ہم ہر قسم کے جوتے بناتے ہیں۔ سستے بھی اور انتہائی قیمتی بھی۔ مگر ہم ہر خریدار کی ضرورت مکمل طور پر پوری کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے خریداروں کا اتنا زیادہ لحاظ کرتے ہیں جتنا کوئی بھی نہیں کرتا: We really look after our customers as nobody else. باٹا کی جوتا کمپنی کی عظیم کامیابی یہ سبق دے رہی ہے کہ ــــ اگر تم اپنے لیے لینا چاہتے ہو تو دوسروں کو دینے کی کوشش کرو۔ کیوں کہ دوسروں کو دے کر ہی اس دنیا میں تم اپنے لیے پاسکتے ہو۔ قدر دانی چارلس ڈارون (1882-1809) اپنے اسکول کے زمانہ میں اچھا طالب علم نہ تھا۔ اس کے والد نے ایک بار اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ ”تم بس شکار کھیلتے رہتے ہو اور کتوں کے ذریعہ چوہا پکڑنے کے سوا اور کچھ نہیں کرتے ہو۔“ اسکول کی تعلیم کے بعد اس کے والد نے اس کو ڈاکٹری کے کورس میں داخل کیا مگر وہ ڈاکٹری کا کورس مکمل نہ کر سکا۔ اس کے بعد پادری بننے کا ارادہ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی میں دینیات میں داخلہ لیا۔ مگر یہاں بھی وہ نا کام رہا۔ کیمبرج کے قیام کے زمانہ میں ڈارون کو تاریخِ طبیعی (Natural history) کے موضوع سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ یہ مضمون اگرچہ اس کے ڈگری کورس کے نصاب میں شامل نہ تھا۔ تاہم ذاتی شوق کے تحت وہ اس کو پڑھتا رہا۔ تاریخِ طبیعی اور علم طبقات الارض سے دلچسپی نے ڈارون کو پروفیسر ہنسلو (J.S.Henslow) تک پہنچایا۔ پروفیسر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader