Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

آٹومیٹک مشینوں کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کمپوز نہیں کیے جاتے اور نہ ڈھالے جاتے ۔ بلکہ وہ لیزر شعاعوں کے ذریعہ پلیٹ پر منعکس ہوتے ہیں۔ کا غذ اپنے آپ چھپ کر نکلتا ہے۔ وہ اپنے آپ مڑتا ہے۔ اس کے بعد اس کے بنڈل بنتے ہیں۔ اور بنڈل کے اوپر پولی تھین لپیٹا جاتا ہے۔ اور پھر ڈسپیچ ڈیپارٹمنٹ میں پہنچادیا جاتا ہے۔ یہ سب کمپیوٹر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ (ٹائمز آف انڈیا 22 جنوری 1984) مذکورہ انگریزی اخبار چوں کہ برابر دو سو سال سے جاری ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہوا کہ اس دوران میں ہونے والی تمام طباعتی اور اشاعتی ترقیاں اس کی تاریخ کا جزءِ بن جائیں۔ وہ اس کی ترقی کے لیے زینہ بنتی چلی جائیں۔ اگر بالفرض وہ ابتدائی 25 سال یا 50 سال میں بند ہو گیا ہوتا تو دنیا میں ہر قسم کی ترقیاں ہوتیں مگر مذکورہ اخبار ان ترقیوں میں حصہ دار بننے کے لیے موجود نہ ہوتا۔ موجودہ دنیا میں کوئی کام ”دودن“ میں انجام نہیں پاتا۔ اس کو کرنے کے لیے ”دو سو سال“ درکار ہوتے ہیں۔ مگر دو سو سالہ منصوبہ کی تکمیل کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ جوش عمل اور استقلال۔ ان دو چیزوں کے بغیر یہاں کوئی بڑی ترقی ممکن نہیں۔ ہار مان لینا امریکہ کے ایک شخص نے 1831ء میں تجارت کی۔ اس میں وہ نا کام ہو گیا۔ 1832 میں اس نے ملکی سیاست میں حصہ لیا مگر وہاں بھی اس نے شکست کھائی۔ 1834 میں اس نے دوبارہ تجارت کی۔ اس بار بھی وہ اپنی تجارت کو چلانے میں نا کام رہا۔ 1841 میں اس کے اعصاب جواب دے گئے۔ 1843 میں وہ دوبارہ سیاست میں داخل ہوا۔ اس کو امید تھی کہ اس بار اس کی پارٹی اس کو کانگرس کی ممبری کے لیے نامزد کر دے گی۔ مگر آخر وقت میں اس کی امید پوری نہ ہوسکی۔ اس کا نام پارٹی کے امیدواروں کی فہرست میں نہیں آیا۔ 1855 میں اس کو پہلی بار موقع ملا کہ وہ سینٹ کے لیے کھڑا ہو۔ مگر وہ الیکشن میں ہار گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page