راز حیات
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ لطیفہ زندگی کی ایک حقیقت کو بتا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کبھی دور کا راستہ عملاً زیادہ قریب ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ منزل پر پہنچنے کے لیے مختصر راستہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو بظاہر جلد نتیجہ کو سامنے لانے والا ہو۔ مگر منزل تک جلد پہنچنے کے لیے صرف ”راستہ “ کو دیکھنا کافی نہیں ہے بلکہ ” سواری “ کو دیکھنا بھی ضروری ہے، نتیجہ کو جلد حاصل کرنے کا تعلق صرف ظاہری اسباب سے نہیں ہے بلکہ بہت سے ان دوسرے اسباب سے ہے جو دکھائی نہیں دیتے۔ کبھی دور کا راستہ زیادہ قریب ہوتا ہے اور قریب کا راستہ زیادہ دور بن جاتا ہے۔ اندر اور باہر کا فرق اپالو 8 کے تین خلائی مسافر 27 دسمبر 1968 کو بحر الکاہل میں اترے تھے۔ زمین سے چاند تک کا سفر کرنے میں ان امریکی خلا بازوں کو چھ دن تین گھنٹے لگے اور انھوں نے تقریباً پانچ لاکھ 47 ہزار میل کا سفر طے کیا۔ ان کے سفر کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ تھا جب کہ ان کا چھ ٹن وزنی جہاز ساڑھے میل کے فاصلہ سے چاند کا چکر لگا کر دوبارہ زمین کے قریب پہنچا۔ امریکی راکٹ جب زمین کی بیرونی فضا میں داخل ہوا تو زمین کی کشش کی وجہ سے اس کی رفتار غیر معمولی طور پر بڑھ کر 39 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگئی۔ چاند کے مقابلہ میں اس کو سات گنا زیادہ قوت کشش کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا تھا۔ اس غیر معمولی رفتار کی وجہ سے خلائی جہاز انتہائی خوفناک قسم کی گرمی سے دوچار ہوا۔ کرہ فضا میں داخل ہوتے ہی خلائی جہاز ہوا کی رگڑ سے گرم ہونا شروع ہوا۔ یہاں تک کہ وہ آگ کے انگارے کی طرح سرخ ہو گیا۔ اس وقت خلائی جہاز کے بیرونی حصہ کی تپش تین ہزار تین سونٹی گریڈ (6 ہزار ڈگری فارن ہائٹ ) تھی، جب کہ صرف سوڈگری کی حرارت پر پانی ابلنے لگتا ہے۔ تین ہزار تین سوڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر اس غیر معمولی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader