راز حیات
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
تپیش میں تینوں خلائی مسافر کس طرح زندہ سلامت رہ کر واپس آگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جس خلائی جہاز کے اندر وہ بند تھے، وہ خاص طور پر اس ڈھنگ سے بنایا گیا تھا کہ وہ باہر کی شدت کو اندر نہ پہنچنے دے۔ چنانچہ سخت ترین گرمی کے باوجود اس کے اندر کا درجہ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ سے آگے نہیں بڑھا۔ باہر کا درجہ حرارت تین ہزار تین سو اور اندر کا درجہ حرارت صرف 21۔ خلائی سفر کا یہ واقعہ اپنے اندر بڑا سبق رکھتا ہے۔ انسانی زندگی میں بھی بار بار ایسے سخت مرحلے آتے ہیں جب بیرونی ماحول انتہائی طور پر آپ کے خلاف ہو جاتا ہے۔ اس وقت حالات کی شدت سے بچنے کی صرف ایک سبیل ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اندرونی جذبات کو دبائیں اور اپنے احساسات پر قابورکھتے ہوئے اس کو معتدل حالت پر قائم رکھیں ۔ اگر ایسا ہو کہ آپ کے ”اندر“ بھی شدت کا وہی حال ہو جائے جو آپ کے ”باہر“ ہے تو آپ اپنے کو تباہ کر لیں گے۔ اس کے برعکس اگر اندر کی شدت سے غیر متاثر رہ کر اعتدال کی حالت پر قائم رہے تو آپ باہر کی ”آگ“ سے محفوظ رہیں گے اور آخر سلامتی کے ساتھ کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ آپ کے باہر اگر آپ کے خلاف نفرت اور بغض پایا جاتا ہو تو آپ اس نفرت اور بغض کو اپنے اندر داخل نہ کریں۔ بلکہ اپنے کو قابو میں رکھ کر اپنے اندر محبت اور درگزر کے جذبات کی پرورش کریں۔ باہر کی دنیا آپ کے ساتھ برائی کا معاملہ کرے تو آپ بھلائی کی صورت میں اس کا جواب دیں۔ یہی طریقہ زندگی اور کامیابی کا طریقہ ہے۔ اگر آپ بھی ویسے ہی ہو گئے جیسا ماحول تھا تو یقیناً آپ مقابلہ کی اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بے صبری کا نتیجہ 15 جنوری 1986 کا واقعہ ہے۔ انڈین ائیرلائنز کا ایک جہاز (فلائٹ نمبر (406) بمبئی سے دہلی کے لیے اڑا۔ مگر صرف پندرہ منٹ بعد وہ واپس ہوا اور دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ جہاز کسی ٹیکنیکل سبب سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا تھا۔ جہاز جب اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader