بے صبری کا نتیجہ
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
فضا میں پہنچا تو اس کے ایک مسافر نے کیپٹن بھٹناگر کے نام ایک نوٹ بھیجا کہ وہ بتائے کہ جہاز کیوں آدھ گھنٹہ لیٹ روانہ ہوا ہے۔ کیپٹن نے مذکورہ مسافر کو کاک پٹ میں بلایا اور وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ لیٹ ہونے کی وجہ کیا تھی۔ مسافر اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا اور کیپٹن کی پیٹھ پر گھونسہ مار کر کہا کہ میں نے تمہارے جیسے بہت پائلٹ دیکھے ہیں : I have seen many pilots like you. کیپٹن بھٹناگر اس صورت حال سے گھبرا اٹھے۔ انھوں نے فوراً جہاز کو موڑ دیا اور اس کو واپس لا کر دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتار دیا۔ اس کے بعد بمبئی کے ہوائی اڈہ پر کافی دیر تک ہنگامہ رہا بالا آخر انڈین ایئر لائنز کے ذمہ داروں نے جہاز کو دوسرے پائلٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ جہاز جب بمبئی سے دہلی پہنچا تو وہ تین گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ مسافر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر برداشت نہ کی۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ وہ تین گھنٹہ تاخیر کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچے۔ مزید یہ کہ انڈین ایئر لائنز کے ذمہ داروں نے ایک انکوائری (High-level inquiry)بھٹائی ہے ( ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس 16 جنوری 1986 )۔ مذکورہ مسافر بالفرض کسی سزا سے بچ جائے تب بھی وہ ایک انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اسی چیز کی اور زیادہ قیمت دینا جس کی تھوڑی قیمت دینے پر وہ راضی نہیں ہوئے تھے، یعنی وقت۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے مقصد کو کھورہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوں۔ حالاں کہ اس کی تیزی کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کچھ اور دور ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader