Urdu book · راز حیات

کامیابی کا راز

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

جینے کا راز ایک مسلمان لیڈر نے وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے نام ایک خط لکھا۔ اس میں انہوں نے یہ شکایت کی کہ مسلم اقلیت کے ساتھ ہندوستان میں ظلم اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر اس صورتِ حال کو ختم نہ کیا گیا تو ان کی پارٹی ستیہ گرہ شروع کر دے گی۔ اس کے جواب میں مسز اندرا گاندھی نے مکتوب نگار کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا: No minority could survive if their neighbours of the majority were irritated. کوئی اقلیت زندہ نہیں رہ سکتی اگر اس کی پڑوسی اکثریت مشتعل ہو۔ (ہندوستان ٹائمز 21 فروری 1983) اگر بالکل غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کا یہ جملہ صورتِ حال کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ نیز اسی کے اندر مذکورہ مسئلہ کا حقیقی حل بھی چھپا ہوا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک دوسرے کے خلاف ناراضگی کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔ کوئی آگے بڑھ گیا ہے تو دوسروں میں اس کے خلاف حسد کا جذبہ، کسی کو زیادہ مل گیا ہے تو اس کے مقابلہ میں اپنی محرومی کا احساس، کسی سے شکایت کی کوئی بات ہو جائے تو اس کے خلاف غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ اس قسم کے جذبات انتہائی عام ہیں اور وہ ہر سماج میں بلکہ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں۔ مگر عام حالات میں وہ دلوں کے اندر چھپے رہتے ہیں۔ لوگوں کی روزمرہ کی مصروفیات بھی اس کے ابھرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آجاۓ تو یہ جذبات ظاہر ہو جاتے ہیں۔ سماجی امن در حقیقت اس کا نام ہے کہ ان منفی جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ اس کے برعکس، سماجی بدامنی یہ ہے کہ کوئی نادانی کر کے ان چھپے ہوئے جذبات کو مشتعل کر دیا جائے۔ یہ زندگی کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ موجودہ مقابلہ کی دنیا میں کوئی معاشرہ حتیٰ کہ کوئی خاندان اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page