Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

خالی نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں زندگی کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ صبر اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے دبے ہوئے جذبات کو دبا رہنے دیا جائے۔ ان کو ہر قیمت پر بروئے کار آنے سے روکا جائے۔ زندگی کا یہی راز ہے جس کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے— اس دنیا میں ہر آدمی کے پاس ایک وسیع قبرستان ہونا چاہیے جس میں وہ لوگوں کے قصوروں کو دفن کر سکے۔ صبر کی ضرورت مغل حکمران اورنگ زیب کو اپنے والد شاہ جہاں سے سیاسی اختلاف ہوا۔ 1658ء میں اس نے شاہ جہاں کو تخت سے بے دخل کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اسی حال میں شاہ جہاں 1666ء میں 74 سال کی عمر میں مر گیا۔ اسیر کے زمانہ میں اس کی بہن جہاں آرا بھی قلعہ میں اس کے ساتھ تھی۔ شاہ جہاں آگرہ کے قلعہ سے تاج محل کو دیکھا کرتا تھا اور اشعار پڑھتا رہتا تھا۔ ڈاکٹر آر۔ سی۔ مجمدار، ڈاکٹر ایچ۔ سی۔ رائے چودھری اور ڈاکٹر کالی کِنکر دتہ نے اپنی مشترک کتاب تاریخ ہند (An Advanced History of India) میں شاہ جہاں کے آخری حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے مذہب میں اپنی تسکین کا سامان پا لیا۔ اور صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آخری ایام اپنی پارسا لڑکی جہاں آرا کے ساتھ عبادت اور مراقبہ میں گزار دیے یہاں تک کہ مر گیا: He found solace in religion, and, in a spirit of resignation, passed his last days in prayer and meditation in the company of his pious daughter, Jahanara, till his death (p. 477) کہا جاتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد شاہ جہاں قید کی زندگی سے گھبرا اٹھا۔ اس نے اورنگ زیب کو ایک مصرعہ لکھ کر بھیجا جس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو ہم کو مار ڈالو یا دام دو یا پھر ہم کو آزاد چھوڑ دو: یا بکش یا دام دہ یا از قفس آزاد کن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page