راز حیات
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
اورنگ زیب نے بھی اس کے جواب میں ایک مصرعہ لکھ کر شاہ جہاں کے پاس بھیج دیا۔ جو یہ تھا کہ ہوشیار چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے: مرغ زیرک چون بدام افتد تحمل بایدش ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو، صرف ایک لطیفہ ہو۔ تاہم یہ بذاتِ خود ایک حکمت کی بات ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی غلطی یا کسی حادثہ کی بنا پر ایک ایسی صورت حال میں پھنس جاتا ہے جو اس کے لیے عام حالات میں بالکل نا قابل برداشت ہوتی ہے۔ مگر اب جہاں وہ پھنس گیا ہے وہاں سے فوری طور پر نکلنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں گھبرا کر کوئی اقدام کرنا سراسر نادانی ہے۔ جال میں پھنسنے کے بعد چڑیا اگر پر پھڑ پھڑائے تو وہ اور زیادہ پھنستی چلی جاتی ہے، اسی طرح کسی نازک صورت حال میں پھنس جانے کے بعد آدمی اگر بے صبری کے ساتھ کاروائی کرے تو وہ اور زیادہ اس میں الجھ جائے گا۔ حکمت کا یہ اصول افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ ردِ عمل کے بغیر ایک ہندی کہاوت ہے چوٹ سہہ جو شبد کی واۓ گرو میں داس۔ یعنی جو شخص لفظ کی چوٹ سہ سکے وہ اس قابل ہے کہ اس کو پیشوائی کا درجہ دیا جائے اور دوسرے لوگ اس کے خادم بن کر رہیں۔ لفظ کو سن کر بظاہر نہ کسی کا خون بہتا اور نہ کسی کا ہاتھ پاؤں ٹوٹتا۔ مگر لفظ کی چوٹ کو برداشت کرنا بلا شبہ کسی آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے، لفظ کی چوٹ وہی شخص برداشت کر سکتا ہے جس کے اندر گہرائی ہو۔ جو ظاہری سطح سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھ سکے۔ مسٹر کرشنا مورتی ( عمر 90 سال) ہندوستان کے مشہور مفکر ہیں۔ وہ نہایت عمدہ انگریزی بولتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تقریروں میں انگریزی دان طبقہ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader