Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے علاوہ مغربی ملکوں میں بھی ان کی تقریریں دل چسپی سے سنی جاتی ہیں۔ تا ہم کرشنا مورتی کو یہ شکایت ہے کہ کوئی ان کے خیالات کو عملی طور پر نہیں اپناتا۔ مدراس کی ایک تقریر میں انھوں نے کہا کہ 50 سال سے میں دنیا بھر میں سفر کر کے اپنے خیالات پیش کر رہا ہوں مگر لوگوں کے اندر کوئی عملی حرکت پیدا نہیں ہوتی ”کیا آپ لوگ اپنے آپ کو بدل لیں گے۔“ انھوں نے مجمع سے سوال کیا، پھر خود ہی جواب دیا ”آپ لوگ میری باتیں سن کر واپس چلے جائیں گے اور بدستور ویساہی کرتے رہیں گے جیسا اب تک کر رہے تھے۔“ یہ سن کر مجمع سے ایک شخص اٹھا اور سخت غصہ میں کہا ”ہر سال آپ یہی کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہیں دیتے۔ پھر کس لیے آپ ہم کو اپنی بات سناتے رہتے ہیں“ اس کے جواب میں مسٹر کرشنا مورتی نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا: Sir, have you ever asked a rose why does it bloom? جناب، کیا آپ نے کبھی گلاب سے پوچھا ہے کہ وہ کیوں کھلتا ہے (ہندوستان ٹائمس 24 فروری 1984) تنقیدی بات سن کر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بپھرا اٹھتا ہے۔ مگر ایسے موقع پر پھر ناخود اپنا ہی نقصان کرنا ہے۔ اگر آپ مخاطب کی تنقید سن کر غصہ ہو جائیں تو آپ صرف تیز وتند الفاظ بولیں گے۔ لیکن ایسے موقع پر آپ اپنے جذبات کو سنبھال لیں تو آپ ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو دل میں اتر جائے اور مخاطب کو خاموش کر دے۔ آسانی ہمیشہ مشکلوں کے بعد آتی ہے گرمیوں کے موسم میں گرد و غبار سے بھری ہوئی آندھی جب اٹھتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مصیبت کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر روس کے ماہرین موسمیات نے قراقرم کے ریگستانوں میں تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ گرد بھری ہوئی آندھیاں زمین پر موسم کی سختی کو کنٹرول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page