Urdu book · راز حیات

آغاز میں

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف کنجی گھما دینا ہو۔ مسلمان موجودہ زمانہ میں جس طرح عمل کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دنیا کو وہ اپنے لیے اسی قسم کی جگہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال شاید یہ ہے کہ ان کے خدا نے ایک تیار شدہ دنیا ان کے حوالے کر دی ہے اور اب ان کا کام صرف یہ ہے ایک کنجی گھما کر وہ اس کو اپنی مرضی کے موافق چلا دیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا عمل اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیں اول سے آخر تک سارا کام خود کرنا ہے۔ ہمیں دوسروں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے بعد ہی ممکن ہے اسباب کی اس دنیا میں ہم کو اپنی مطلوبہ جگہ مل سکے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے پہلے جو چیز جاننا چاہیے وہ یہ حقیقت ہے کہ وہ تاریخ کے آغاز میں ہیں، تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ اگر وہ جنوری 1985 میں ہو تو دسمبر 1985 کے زمانہ میں پہنچنے کے لیے اس کو بارہ مہینے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ زمین اپنے محور پر 360 بار گھومے گی اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارا ایک سال پورا ہو اور ہم تکمیل سال کے مرحلہ میں پہنچ سکیں۔ یہ اس دنیا کی انتہائی معلوم حقیقت ہے۔ مگر اسی معلوم حقیقت کو مسلمان ملت کی تعمیر کے معاملہ میں بالکل بھول جاتے ہیں۔ وہ عملاً پہلے مہینہ میں ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ چھلانگ لگا کر آخری مہینہ میں جا پہنچیں۔ وہ بنیاد کی تعمیر نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خیالی مکان کی بالائی چھت پر کھڑے ہوئے نظر آئیں۔ واقعہ کے اعتبار سے وہ اپنے سفر کے آغاز میں ہوتے ہیں۔ اور ایسے انتہائی الفاظ بولتے ہیں کہ گویا کہ وہ درمیانی راستہ طے کیے بغیر اپنی آخری منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ یاد رکھیے، ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک با مقصد قوم تیار کریں۔ ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں ۔ ان کے اندر وہ شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانیں ۔ ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں۔ یہ سارے کام جب قابل لحاظ حد تک ہو چکے ہوں گے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page