Urdu book · راز حیات

بعد آتی ہے

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہیں۔ جب آندھیاں چلتی ہیں تو ان کی وجہ سے گرد اٹھ کر اوپر چھاجاتی ہے اور فضا میں ایک غلاف کی صورت بنا لیتی ہے۔ اس طرح یہ آندھیاں زمین کی سطح کو گرمی کی تپش سے محفوظ رکھتی ہیں۔ روسی سائنس دانوں نے مختلف آلات اور جہازوں کا استعمال کر کے آندھیوں کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں بھی ریگستان کی تپتی ہوئی سطح اس وقت ٹھنڈی ہو جاتی ہے جب گرد سے بھری ہوئی آندھیاں چلنا شروع ہوتی ہیں۔ گرد کے یہ سایہ دار بادل محدود فضا میں بھی چھا سکتے ہیں اور کافی دور تک بھی، جیسے عرب سے جنوبی امریکا تک اور وسط ایشیا سے بحر آرکٹک تک۔ قدرت کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ ہر مفید واقعہ کسی پر مشقت عمل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ ہم جب اپنی زندگی کے بارے میں کوئی منصوبہ بنائیں تو اس حقیقت کو بھی ضرور سامنے رکھیں کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے ہم کو جدوجہد کے پُر مشقت دور سے گزرنا ہو گا۔ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اسی ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اور اس سے مطابقت کر کے ہی ہم کوئی مفید نتیجہ برآمد کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہیں کہ ہم کو ” آندھی “ کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور اس کے بغیر ہی ہمارے سروں پر ٹھنڈا بادل سایہ کرلے تو ایسے نتیجہ کو پانے کے لیے ہمیں دوسری کائنات بنانی پڑے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر حالات میں ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی فوراً کامیابی چاہتا ہے۔ ”مختصر راستہ“ کا لفظ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی دنیا کے لیے صحیح ہے مگر زندگی کی جدوجہد میں ” مختصر راستہ “ کی قسم کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ سورت میں ہیرے کی ایک دکان ہے جو دوسری منزل پر ہے۔ ایک نوجوان اس دکان میں داخل ہوا۔ اس نے ایک ہیرا چرا لیا اور اس کو لے کر باہر نکل جانا چاہا۔ مگر دکان کے آدمیوں کو شبہ ہو گیا۔ انھوں نے فوراً سیڑھی کا دروازہ بند کر دیا اور نوجوان سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ نوجوان نے دیکھا کہ سیڑھی کے راستہ سے بھاگنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ تیزی سے قریب کی کھڑکی میں داخل ہوا اور وہاں سے نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی۔ بظاہر اس نے بھاگ نکلنے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔ مگر دوسری منزل سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page