راز حیات
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
جب وہ سڑک پر گرا تو اس کو اتنی سخت چوٹ آئی کہ وہ وہیں سڑک پر مرگیا (ٹائمز آف انڈیا 21 جنوری 1980)— "سیڑھی"، کا راستہ اگر کسی کو بند نظر آئے تو وہ "کھڑکی" سے چھلانگ لگا کر سڑک پر نہیں پہنچ سکتا۔ ایسی چھلانگ اس کو جہاں پہنچائے گی وہ قبر ہے، نہ کہ سڑک۔ بظاہر یہ ایک احمق نوجوان کا قصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر بہت سے عقل مند لوگ بھی ٹھیک اسی طریقہ کو اپنی زندگی میں دہراتے ہیں اور بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوتے ہیں جس سے مذکورہ نوجوان دوچار ہوا۔ اپنی کمیوں کو جانیئے وہ بڑھاپے کی منزل میں تھا۔ مگر اس نے شادی نہیں کی تھی، اس لیے کہ اس کو ایک آئیڈیل رفیقۂ حیات کی تلاش تھی۔ لوگوں نے پوچھا: کیا آپ کو زندگی بھر کوئی ایسی خاتون نہیں ملی جو آئیڈیل رفیقۂ حیات بن سکتی ہو۔ اس نے جواب دیا: ایک خاتون ایسی ملی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ وہ بھی اپنے لیے ایک آئیڈیل شوہر تلاش کررہی تھی— اور بدقسمتی سے میں اس کے معیار پر پورا نہ اتر سکا۔ لوگ عام طور پر دوسروں کی کمیوں کو جاننے کے ماہر ہوتے ہیں اس لیے ان کا کسی سے نباہ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی اپنی کمیوں کو جان لے تو اس کو معلوم ہو کہ وہ بھی اسی بشری مقام پر ہے جہاں وہ دوسرے کو کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اپنی کمیوں کا احساس آدمی کے اندر تواضع اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ صرف دوسروں کی کمیوں کو جانتا ہو تو اس کے اندر گھمنڈ پیدا ہوگا اور کسی سے نباہ کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی ایک آدمی میں ساری خصوصیات جمع نہیں ہوتیں۔ کسی میں کوئی خصوصیت ہوتی ہے اور کسی میں کوئی خصوصیت۔ پھر جس شخص میں کوئی ایک خصوصیت ہوتی ہے اس کے اندر اسی نسبت سے کچھ اور خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں جو گو یا اس خصوصیت کا ضمنی نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader