راز حیات
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لیے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔ اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کی خندق میں چھلانگ لگانا ہے، نہ کہ زندگی کے چمنستان میں داخل ہونا۔ نئی طاقت جاگ اٹھی گیرا رڈ (اٹلی) نے مغربی لاطینیوں کے لیے وہی کام کیا جو حنین ابن اسحق نے مشرقی عربوں کے لیے کیا تھا۔ اس نے عربی زبان سے فلسفہ، ریاضی، طب اور علوم طبیعی کی بے شمار کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر ڈالا۔ گیرا رڈ 1114 ء میں کریمونا (اٹلی) میں پیدا ہوا۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتا تھا۔ بطلیموس کی المجسطی (عربی) کی تلاش میں وہ طلیطلہ آیا۔ اس نے 1175 ء میں اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ وہ عربی کی کتابوں کا ترجمہ کرنے والوں میں نمایاں ترین شخص بن گیا۔ ایک مسیحی اور ایک یہودی عالم اس کام میں اس کے مددگار تھے۔ اس نے یونانی اور عربی علوم کے دروازے پہلی بار مغرب کے لیے کھول دیئے۔ اس کے بعد دوسرے بہت سے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے اس معاملہ میں اس کی تقلید کی۔ ڈاکٹر میکس میر ہاف کے الفاظ میں وہ یورپی دنیا میں عربیت کا بانی تھا۔ علم طب میں گیرا رڈ نے بقراط وجالینوس کی کتابوں، حنین کے تقریباً تمام ترجموں، الکندی کی تمام تصانیف، بوعلی سینا کی ضخیم "قانون" اور ابوالقاسم زہراوی کی کتاب "جراحت" کا ترجمہ کر دیا۔ طبیعیات میں اس نے ارسطو کی بہت سی کتابوں کا عربی سے ترجمہ کیا۔ جن میں حجر یات کا وہ رسالہ بھی شامل ہے جو ارسطو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبہ علم میں الکندی، الفارابی، اسحاق اور ثابت وغیرہ کی کتابوں کو بھی لاطینی میں منتقل کیا۔ گیرا رڈ 1187 میں بیمار پڑا۔ اس نے گمان کیا کہ اب اس کی موت قریب ہے۔ "اگر میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader