Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

سانس کے ذریعہ اپنے اندر داخل کر لیا تھا۔ سمپسن ایک غریب نانبائی کے سات لڑکوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ چار سال کی عمر میں اس نے اپنے گاؤں کے اسکول میں تعلیم شروع کی۔ اس نے تعلیم میں اتنی دلچسپی دکھائی کہ اس کا باپ اور چھ بھائی اس پر راضی ہو گئے کہ خود انتہائی ضروری مصارف پر قناعت کر کے اس کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر بھیجیں۔ اس طرح وہ ایڈنبرا یونیورسٹی پہنچا اور ڈاکٹری میں اس وقت کی سب سے اونچی ڈگری (ایم ڈی) حاصل کی۔ ڈاکٹر سمپسن کو اپنے مطالعہ کے دوران معلوم ہوا کہ کلورو فارم میں بے ہوش کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نے اس کی تحقیق شروع کر دی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ آپریشن کے وقت اگر مریض کو وقتی طور پر کلورو فارم کے ذریعہ بے ہوش کر دیا جائے تو اس کو چیر پھاڑ کی بھیانک تکلیف سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ یہاں تک کہ خود اپنے آپ پر تجربہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ کلورو فارم تو بے ضرر بے ہوشی کے لیے کامیاب طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح غریب نانبائی کا یہ لڑکا انسان کو وہ چیز دے سکا جس کو ڈاکٹر براؤن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے - دکھی انسانوں کے لیے خدا کا ایک بہترین تحفہ: ...one of God's best gifts to his suffering children. جدید دنیا میں مغرب کی امامت کا راز اس کے اسی قسم کے باحوصلہ افراد ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو کھویا تا کہ وہ انسانیت کو دیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا تا کہ وہ دوسروں کو خطرہ سے بچا سکیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے نپولین (1821-1769) جب پہلی قید کے بعد جزیرہ البا (Elba) سے بھاگا تو اس کے ساتھ اس کے وفادار سپاہیوں کی صرف ایک مختصر جماعت تھی۔ اس معزول تاجدار کے عزائم یہ تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page