Urdu book · راز حیات

ایک طریقہ یہ بھی ہے

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کرے۔ مگر پہلے ہی معرکہ میں اس کو فرانس کے 20 ہزار جوانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نپولین دنیا کے انتہائی بہادر انسانوں میں سے ایک ہے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا کہ اپنی فوج کی کمی کا لحاظ نہ کرتے ہوئے حریف سے ٹکرا جائے۔ جب دونوں فریق آمنے سامنے ہوئے تو وہ اکیلا بالکل غیر مسلح حالت میں اپنی جماعت سے نکلا اور نہایت اطمینان کے ساتھ فریق مخالف کی صفوں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے اور اپنے سینہ کو ننگا کر دیا۔ اس کے بعد جذباتی انداز میں اپنے مخالف سپاہیوں سے، جن میں سے اکثر اس کے ماتحت رہ چکے تھے، خطاب کر کے بولا: ”تم میں سے کون وہ سپاہی ہے جو اپنے باپ کے ننگے سینہ پر فائر کرنے کو تیار ہو“ اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر طرف سے ”کوئی نہیں، کوئی نہیں‘‘ کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تمام سپاہی مخالف جماعت کو چھوڑ کر نپولین کے جھنڈے کے نیچے آگئے۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ نپولین اپنی بے سروسامانی کے باوجود فاتح ہوا۔ اس نے ملک فرانس کے تخت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ جس بے سروسامانی کی حالت میں تھا، اس کے ساتھ اگر وہ فرانس کی فوجوں سے لڑ جاتا تو میدانِ جنگ میں شاید اس کی لاش تڑپتی ہوئی نظر آتی۔ آدمی کے پاس کتنا ہی سازوسامان ہو لیکن خطرہ پیش آنے کی صورت میں اگر وہ گھبرا اٹھے تو اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ صورت حال کے بارے میں سوچے اور مقابلہ کے لیے اپنا منصوبہ بنائے ۔ اس کے برعکس، اگر وہ خطرہ کے وقت اپنے ذہن کو حاضر رکھے تو بہت جلد ایسا ہوگا کہ وہ خطرہ کی اصل نوعیت کو سمجھ لے اور اپنے ممکن ذرائع کو بروقت استعمال کر کے کامیاب رہے۔ تاریخ میں بار بار کم تعداد اور کم طاقت والوں نے زیادہ تعداد اور زیادہ طاقت والوں پر کامیابی حاصل کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دشمن ہمیشہ اس سے بہت کم طاقت ور ہوتا ہے جتنا کہ وہ بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ اس دنیا کا نظام کچھ اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ کوئی شخص یا گروہ خواہ کتنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page