Urdu book · راز حیات

ایک طریقہ یہ بھی ہے

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

ہی طاقت ور ہو جائے اس کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری موجود رہتی ہے۔ اسی کمزوری کو استعمال کرنے کا نام دشمن پر فتح حاصل کرنا ہے۔ کسی شخص کی واحد طاقت اس کے فریق کی کمزوری ہے، اور یہ طاقت ہمیشہ ہر ایک کو حاصل رہتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس ہوشیاری کا ثبوت دے سکے کہ وہ اپنے حریف کی کمزوری کو استعمال کرنا جانتا ہے۔ جرأت مندی احمد اور اقبال دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ احمد بی اے پاس تھا۔ جب کہ اقبال کی تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی تھی۔ ایک بار اقبال کو ایک سرکاری دفتر میں جانا تھا۔ وہ وہاں جانے لگا تو احمد بھی اس کے ساتھ چلا گیا۔ دونوں مذکورہ دفتر میں پہنچے۔ احمد نے دیکھا کہ اقبال وہاں مسلسل انگریزی بول رہا ہے۔ جب دونوں باہر نکلے تو احمد نے کہا کہ تم بالکل غلط سلط انگریزی بول رہے تھے۔ میں تو کبھی اس طرح بولنے کی ہمت نہیں کروں گا۔ اقبال کو احمد کے اس تبصرے سے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔ اس نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا: "غلط بولو تا کہ تم صحیح بول سکو۔" اقبال نے مزید کہا کہ تم اگر چہ بی اے ہو اور میں کچھ بھی نہیں ہوں مگر دیکھ لینا کہ میں انگریزی بولنے لگوں گا اور تم کبھی بھی نہ بول سکو گے۔ اس واقعہ کو اب ہیں سال ہو چکے ہیں۔ اقبال کے الفاظ صد فی صحیح ثابت ہوئے۔ احمد آج بھی وہیں ہے جہاں وہ ہیں سال پہلے تھا۔ مگر اقبال نے اس مدت میں زبردست ترقی کی۔ وہ اب بے تکلف انگریزی بولتا ہے اور بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس کی گفتگو میں زبان کی غلطی پکڑ سکیں۔ اقبال کے اس جرأت مندانہ مزاج نے اس کو بہت فائدہ پہنچایا۔ اس سے پہلے شہر میں اس کی ایک معمولی دکان تھی۔ مگر آج اسی شہر میں اس کا ایک بڑا کارخانہ قائم ہے۔ ”غلط بولو تا کہ تم صحیح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page