Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

مرگیا تو قیمتی عربی کتابوں کا ترجمہ مغربی زبان میں کون کرے گا‘ اس احساس نے اس کو تڑپا دیا۔ اس کے اندر نئی قوت عمل جاگ اٹھی۔ بیماری کے باوجود اس نے ان بقیہ عربی کتابوں کا ترجمہ شروع کر دیا جن کو اس نے اپنے پاس جمع کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے صرف ایک مہینے کے اندر اس نے تقریباً اسّی کتابوں کے ترجمے پورے کر لیے۔ عمل کا تعلق حقیقتاً جذبے سے ہے، نہ کہ صحت اور طاقت سے۔ اگر آدمی کے اندر کسی کام کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کام کو وہ ہر حال میں کر ڈالتا ہے، خواہ وہ بستر مرض پر ہو۔ خواہ اس کے ظاہری حالات کسی طرح اس کی اجازت نہ دیتے ہوں۔ بے فائدہ مصروفیات سالز نینٹیسین (Alexander Solzhenitsyn) ایک روسی ناول نگار ہے۔ اس کو روسی عوام کے دکھوں کا احساس ہوا اور اس کو اس نے اپنی کہانیوں میں تمثیلی روپ میں ظاہر کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ روس کی اشتراکی حکومت کی نظر میں ناپسندیدہ شخص بن گیا۔ چنانچہ اس نے اپنا وطن چھوڑ کر امریکا میں پناہ لے لی۔ وہ امریکا کی ایک بستی (Vermont) میں خاموشی سے زندگی گزار رہا ہے۔ اور اپنے خیالات کتابوں کی صورت میں مرتب کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مئی 1982ء میں سالز نینٹیسین کو امریکی حکومت کا ایک دعوت نامہ ملا۔ اس کے اعزاز میں واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دوسرے معزز لوگوں کے علاوہ خود صدر امریکا بھی شریک ہوئے۔ نیز اس دوران میں امریکی صدر ریگن اور سالز نینٹیسین کے درمیان 15 منٹ کی ایک خصوصی ملاقات بھی شامل تھی۔ سالز نینٹیسین نے صدر امریکا کے نام 3 مئی 1982ء کو ایک جوابی خط لکھا جس کے ذریعہ تقریب میں شرکت سے قطعی معذوری ظاہر کی۔ اس نے لکھا کہ زندگی کے جو مختصر لمحات میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page