Urdu book · راز حیات

ناموافق حالات

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ سمجھا جائے۔ اپنے وسائل اور خارجی امکانات کی پوری رعایت کرتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے۔ سفر شروع کیا جائے تو اس حقیقت کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کیا جائے کہ راستہ میں دوسرے بہت سے مسافر بھی موجود ہیں۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ہر وہ قربانی دے جو اس کا مقصد اس سے تقاضا کرے۔ کہیں وہ مال کی قربانی دے اور کہیں وقت کی۔ کہیں وہ رائے کی قربانی دے اور کہیں جذبات کی۔ کہیں وہ دوسروں سے نمٹے اور کہیں وہ خود اپنا احتساب کرے۔ کہیں وہ چلے اور کہیں شدید ہیجان کے باوجود رُک جائے۔ پہاڑ کی چڑھائی جیسی محنت کے بغیر کوئی بڑا کام انجام نہیں پاتا۔ ہر بڑا کام بڑی جدوجہد چاہتا ہے۔ ایسا کام جو آدمی کے مرنے کے بعد بھی اپنے مثبت اثرات باقی رکھے۔ ایسا کام جو مستقبل کی نقشہ گری کرنے والا ہو، ایسا کام جو تاریخ کے رُخ کو موڑ دے، بے پناہ محنت چاہتا ہے۔ ایسے کام کے لیے اتھاہ دانش مندی درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا کام وہی لوگ کر پاتے ہیں جو فی الواقع پہاڑ کی چڑھائی جیسے عمل کا ثبوت دیں۔ اس کے برعکس جو لوگ سڑکوں پر شور وغل کرنے کو کام سمجھیں وہ صرف اجتماعی کثافت میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ تاریخ کو کوئی حقیقی تحفہ دینے کی توفیق نہیں پاتے۔ مشکلیں ہیرو بنا دیتی ہیں اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی (امریکا) میں ایک ادارہ ہے جس کا نام ہے آفات و حوادث کی تحقیق کا مرکز (Disaster Research Centre) یہ ادارہ 1963 میں قائم ہوا۔ اب تک اس نے ایک سو سے زیادہ تعداد میں مختلف قسم کی بڑی بڑی انسانی آفتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس نے پایا کہ غیر معمولی مشکل مواقع پر انسان کے اندر غیر معمولی طور پر کچھ نئی قوتیں ابھر آتی ہیں جو اس کو حوادث کا شکار ہونے سے بچاتی ہیں۔ مثلاً 1961 میں ٹیکساس میں زبردست قسم کا ساحلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page