Urdu book · راز حیات

پہلے شعور پیدا کیجئے

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقی اور مفید کام وجود میں لانے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ملت کے افراد کو ذہنی حیثیت سے باشعور بنایا جائے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کیا جائے۔ افراد کے اندر شعور کی روشنی جلائے بغیر کوئی حقیقی کام نہیں کیا جاسکتا۔ آغاز سے پہلے اختتام کا اندازہ کر لیجئے حاجیوں کا ایک قافلہ غار حرا کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوا۔ غار حرا جس پہاڑ کے اوپر واقع ہے وہاں تک سڑک جاتی ہے۔ آدمی پہاڑ تک سواری سے جاتا ہے اور پھر وہاں سے پیدل پہاڑ پر چڑھتا ہے۔ قافلہ کے لوگ جب پہاڑ پر چڑھنے لگے تو کچھ لوگوں نے احترام و تقدس کے جذبہ کے تحت سڑک کے پاس اپنے چپل اتار دیئے۔ جاتے وقت صبح کا وقت تھا اس لیے ننگے پاؤں اوپر جانے میں کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔ مگر جب وہ لوگ واپس لوٹے تو دوپہر ہو چکی تھی۔ پہاڑی کے سرخ پتھر تپنے لگے تھے۔ بغیر چپل والے لوگ سخت تکلیف کے ساتھ اس حال میں اترے کہ ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ اس کی وجہ سے وہ کئی دن تک پریشان رہے۔ سفر خواہ پہاڑ کا ہو یا زندگی کا، ہر ایک کی کامیابی کا ایک ہی اصول ہے اور وہ یہ کہ سفر کے آغاز میں سفر کے اختتام کا پورا اندازہ کر لیا جائے۔ جو شخص سفر کے شروع میں سفر کے آخری حالات کا اندازہ نہ کر سکے اس کے حصہ میں اکثر ایسی مشکلات آتی ہیں جو اس کے سفر کے مقصد کو بے معنی کر دیتی ہیں۔ خدا کا یہ قانون اتنا بے لاگ ہے کہ ایک مخلص آدمی بھی اس قسم کی غلطی کرنے کے بعد اس کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ اچھی نیت سے ایک ایسا اقدام کر بیٹھے جس کے عواقب پر اس نے غور نہ کیا ہو تو اس دنیا میں اس کے برے نتائج سے وہ بھی اسی طرح دوچار ہوگا۔ جس طرح ایک بد نیت شخص اس قسم کی غلطی کر کے دوچار ہوتا ہے۔ کسی کا اخلاص اس کی غلطی کے خلاف اس کا محافظ نہیں بن سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page