راز حیات
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
اب انھوں نے چاہا کہ اس کیمرہ کو واپس کر دیں۔ مگر فورا خیال آیا کہ جب میں دکان پر جا کر واپسی کے لیے دکاندار سے کہوں گا تو وہ پوچھے گا کہ کیوں واپس کر رہا ہے۔ واپسی کو برحق ثابت کرنے کے لیے مجھے کیمرے میں کوئی نقص بتانا ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے ادھر ادھر دیکھ کر یہ چاہا کہ کیمرہ میں کوئی خرابی دریافت کریں تاکہ اس کا حوالہ دے کر اپنی واپسی کو درست ثابت کر سکیں ۔ مگر تلاش کے باوجود کیمرہ میں کوئی نقص نہیں ملا۔ تاہم ان کی طبیعت اندر سے زور کر رہی تھی ۔ چنانچہ وہ کیمرہ لے کر دوبارہ دکان پر گئے۔ وہاں کاؤنٹر پر ایک خاتون کھڑی ہوئی تھی ۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیمرہ میں نے آپ کے یہاں سے خریدا تھا۔ اب میں اس کو واپس کرنا چاہتا ہوں ۔ جب انھوں نے یہ بات کہی تو ان کی توقع کے خلاف خاتون نے واپسی کی وجہ دریافت نہیں کی۔ اس نے صرف یہ پوچھا کہ آپ اپنی رقم ڈالرمین چاہتے ہیں یا ملکی سکہ میں ۔ انھوں نے کہا کہ ڈالرمین ۔ خاتون نے اسی وقت واپسی کا پرچہ بنا دیا۔ وہ اس کو لے کر دوسرے کاؤنٹر پر پہنچے۔ وہاں فوراً ان کو مذکورہ ڈالر واپس کر دیے گئے ۔ جیسے کہ رقم اور مال میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں ۔ سوئٹزر لینڈ کے دکان دار نے ایسا کیا کہ کچھ کہے بغیر فوراً کیمرہ واپس لے لیا، اور پوری قیمت لوٹا دی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو اپنے مال کی کوالٹی پر پورا بھروسہ تھا۔ اس کو یقین تھا کہ میرا مال چونکہ معیاری ہے اس لیے ضرور کوئی نہ کوئی اسے خریدے گا۔ خواہ ایک شخص اسے خریدے یا دوسرا شخص۔ استحقاق پیدا کیجئے ایم اے خان ہائر سیکنڈری کے امتحان میں اچھے نمبر سے پاس ہوئے تھے۔ مگر کسی وجہ سے وہ بروقت آگے داخلہ نہ لے سکے ۔ یہاں تک کہ اکتوبر کا مہینہ آ گیا۔ اب بظاہر کہیں داخلہ ملنے کی صورت نہ تھی ۔ تاہم تعلیم کا شوق ان کو ہندو سائنس کالج کے پرنسپل کے دفتر میں لے گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader