Urdu book · راز حیات

استحقاق پیدا کیجئے

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

”جناب، میں بی ایس سی میں داخلہ لینا چاہتا ہوں“ انھوں نے ہندو پرنسپل سے کہا۔ ”یہ اکتوبر کا مہینہ ہے، داخلے بند ہو چکے ہیں۔ اب کیسے تمھارا داخلہ ہوگا“ ”بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ داخلہ لے لیں۔ ورنہ میرا پورا سال بیکار ہو جائے گا“ ”ہمارے یہاں تمام سیٹیں بھر چکی ہیں۔ اب مزید داخلہ کی کوئی گنجائش نہیں“ پرنسپل اتنی بے رخی برت رہا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ہرگز داخلہ نہیں لے گا اور اگلا جملہ طالب علم کو شاید یہ سننا پڑے گا کہ ”کمرہ سے نکل جاؤ“۔ مگر طالب علم کے اصرار پر اس نے بددلی سے پوچھا ”تمھارے مارکس کتنے ہیں“۔ پرنسپل کا خیال تھا کہ اس کے نمبر یقیناً بہت کم ہوں گے۔ اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا۔ چنانچہ طالب علم جب اپنے خراب نتیجہ کو بتائے گا تو اس کی درخواست کو رد کرنے کے لیے معقول وجہ ہاتھ آجائے گی۔ مگر طالب علم کا جواب اس کی امید کے خلاف تھا۔ اس نے کہا 85 فی صد: Sir, eighty five per cent. اس جملہ نے پرنسپل پر جادو کا کام کیا۔ فوراً اس کا موڈ بدل گیا۔ اس نے کہا ”بیٹھو بیٹھو“ اس کے بعد اس نے طالب علم کے کاغذات دیکھے اور جب کاغذات نے تصدیق کر دی کہ واقعی وہ پچاسی فیصد نمبروں سے پاس ہوا ہے تو اسی وقت اس نے پچھلی تاریخ میں درخواست لکھوائی۔ اس نے ایم اے خان کو نہ صرف تاخیر کے باوجود اپنے کالج میں داخل کر لیا بلکہ کوشش کر کے ان کو ایک وظیفہ بھی دلوایا۔ یہی طالب علم اگر اس حالت میں پرنسپل کے پاس جاتا کہ وہ تھرڈ کلاس پاس ہوتا اور پرنسپل اس کا داخلہ نہ لیتا تو طالب علم کا تاثر کیا ہوتا۔ وہ اس طرح لوٹتا کہ اس کے دل میں نفرت اور شکایت بھری ہوتی۔ وہ لوگوں سے کہتا کہ یہ سب تعصب کی وجہ سے ہوا ہے۔ ورنہ میرا داخلہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔ داخلہ نہ ملنے کی وجہ اس کا خراب نتیجہ ہوتا مگر اس کا ذمہ دار وہ ہندو کالج کو قرار دیتا۔ ماحول کا رد عمل اکثر خود ہماری حالت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر ہم اس کو ماحول کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ تاکہ اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کر سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page