استحقاق پیدا کیجئے
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آدمی نے خود اپنی طرف سے کوتاہی نہ کی ہو، اگر زندگی میں ان تیاریوں کے ساتھ داخل ہوا ہو جو زمانہ نے مقرر کی ہیں تو دنیا اس کو جگہ دینے پر مجبور ہوگی۔ وہ ہر ماحول میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، وہ ہر بازار سے اپنی پوری قیمت وصول کرے گا۔ مزید یہ کہ ایسی حالت میں اس کے اندر اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوگی۔ وہ اپنے تجربات سے جرات، اعتماد، عالی حوصلگی، شرافت، دوسروں کا اعتراف، حقیقت پسندی، ہر ایک سے صحیح انسانی تعلق کا سبق سیکھے گا۔ وہ شکایت کی نفسیات سے بلند ہو کر سوچے گا۔ ماحول اس کو تسلیم کرے گا۔ اس لیے وہ خود بھی ماحول کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر اس نے اپنے کو اہل ثابت کرنے میں کوتاہی کی ہو۔ اگر وہ وقت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ اگر وہ کم تر لیاقت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوا ہو تو لازماً وہ دنیا کے اندر اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے گا۔ اور اس کے نتیجہ میں اس کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوں گی وہ بلاشبہ پست اخلاقیات ہوں گی۔ وہ شکایت، جھنجلاہٹ، غصہ، حتیٰ کہ مجرمانہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اندر غلط قسم کی نفسیات ابھرتی ہیں۔ اگرچہ آدمی کی ناکامی کی وجہ ہمیشہ اپنی کمزوری ہوتی ہے۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرائے۔ وہ ہمیشہ اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو مجرم ٹھہراتا ہے۔ وہ صورت حال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ کمتریاری آدمی کو بیک وقت دو قسم کے نقصانات کا تحفہ دیتی ہے—اپنے لیے بے باطور پر ناکامی اور دوسروں کے بارے میں بے باطور پر شکایت۔ پتھر ہر ایک کے لیے سخت ہے۔ البتہ وہ اس آدمی کے لیے نرم ہو جاتا ہے جو اس کو توڑنے کا اوزار رکھتا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے ہوں تو آپ اپنی واقعی حیثیت سے بھی زیادہ حق اپنے لیے وصول کر سکتے ہیں ۔ "وقت" گزرنے کے بعد بھی ایک اجنبی کالج میں آپ کا داخلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کو اپنا واقعی حق بھی نہیں مل سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader