Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

گیس نیچے نہیں سماتی تو اوپر اٹھ کر اپنے لیے جگہ حاصل کرتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھنے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف سے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح کے اوپر قائم نہیں ہو سکتا تو وہ زمین پھاڑ کر اس سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کر لیتا ہے۔ یہ طریقہ جو غیر انسانی دنیا میں خدا نے اپنے براہ راست انتظام کے تحت قائم کر رکھا ہے وہی انسان کو بھی اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کرنا ہے۔ ہر آدمی جو دنیا میں اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہو اس کو سب سے پہلے اپنے اندر کامیابی کا استحقاق پیدا کرنا چاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے اور پھر اپنے حالات کو سمجھے۔ اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے منظم کرے۔ جب وہ ماحول کے اندر داخل ہو تو اس طرح داخل ہو کہ اس کے مقابلہ میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کر چکا ہو۔ اس نے حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے ضروری سامان کر لیا ہو۔ اگر یہ سب ہو جائے تو اس کے بعد آپ کے عمل کا جو دوسرا لازمی نتیجہ سامنے آئے گا وہ وہی ہو گا جس کا نام ہماری زبان میں کامیابی ہے۔ (24 نومبر 1967) معمولی تدبیر سے ایک ڈاکٹر نے مطب شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں کامیاب ہو گیا۔ انھوں نے یہ خصوصیت دکھائی کہ وہ ہر آنے والے مریض کو سلام میں پہل کرتے۔ عام طور پر ڈاکٹر لوگ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ مریض ان کو سلام کرے۔ یہاں ڈاکٹر نے خود مریض کو سلام کرنا شروع کر دیا۔ یہ طریقہ کامیاب رہا اور جلد ہی ان کا مطب خوب چلنے لگا۔ حالانکہ وہ باقاعدہ سند یافتہ نہیں تھے، صرف آر۔ ایم۔ پی“ تھے۔ ایک دکان دار نے دیکھا کہ گاہک کے پاس اگر کئی نوٹ ہیں تو عام طور پر وہ میلے اور پھٹے ہوئے نوٹ دکان دار کو دیتا ہے اور اچھے اور صاف نوٹوں کو بچا کر جیب میں رکھتا ہے۔ اس سے دکان دار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page