Urdu book · راز حیات

راز حیات

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں بھی بالآخر وہ عبرت ناک انجام کا شکار ہوتے ہیں جس انسان کو انہوں نے اپنے پاگل پن کا شکار بنانا چاہا تھا، وہ تو خدا کی مدد سے محفوظ رہتا ہے۔ مگر یہ لوگ خود اسی گڑھے میں داخل کر دیے جاتے ہیں جہاں وہ دوسروں کو داخل کرنا چاہتے تھے۔ ہر آدمی جو کچھ کرتا ہے اپنے فائدہ کے لیے کرتا ہے۔ اپنا فائدہ انسان کا سب سے بڑا معبود ہے۔ آدمی اگر معتدل حالت میں ہو تو وہ کبھی جان بوجھ کر ایسی کارروائی نہیں کریگا، جو اس کو خود اپنے نقصان کی طرف لے جانے والی ہو۔ مگر غصہ اور انتقام وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو اندھا کر دیتی ہیں۔ وہ دوسرے کی ضد میں ایسی کارروائیاں کرنے لگتا ہے جس کا نقصان بالآخر خود اسی کو اٹھانا پڑے ۔ ایسی ہر کارروائی یقینی طور پر پاگل پن ہے۔ معروف پاگل اگر طبی پاگل ہوتے ہیں تو ایسے لوگ نفسیاتی پاگل ۔ غیر حقیقی اضافہ ایک مغربی ملک کے ایک ادارہ نے ایک اشتہار شائع کیا۔ اس کو ایک خاتون کارکن کی ضرورت تھی۔ ادارہ کو خاتون کے اندر جو مختلف صفات درکار تھیں ان میں سے ایک صفت اس کا خاص اور متعین قد بھی تھا۔ اشتہار کی اشاعت کے بعد ادارہ کے پاس بہت سی درخواستیں آئیں ۔ جانچ ہوئی تو ایک خاتون تمام مطلوبہ اوصاف میں غیر معمولی طور پر پوری ہوتی چلی گئی۔ تاہم قد کے معاملہ میں وہ نا منظور کر دی گئی اس کا قد مطلوبہ لمبائی سے آدھا انچ کم تھا جس کو اس نے اپنے جوتے کی ہییل میں آدھا انچ اونچائی کا اضافہ کر کے پورا کیا تھا۔ ججوں نے لکھا : غیر نارمل ہونا ہر حال میں ناقابل قبول ہے۔ خواہ وہ قد کے آدھا انچ کم ہونے میں ہو یا ہییل کے آدھا انچ زیادہ ہونے میں۔ یہ چھوٹا سا واقعہ زندگی کے ایک قانون کو بتاتا ہے۔ یہ قانون کہ غیر حقیقی چیز میں اضافہ حقیقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page