Urdu book · راز حیات

اشتعال نہیں

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

کے واقعہ سے اس کے دل کو بھی چوٹ لگی۔ اس کو بھی اپنے نقصان اور اپنی بے عزتی سے وہی تکلیف ہوئی جو ہر انسان کو ایسے وقت پر ہوتی ہے۔ مگر اس نے اپنے جذبات کو تھاما۔ فوری جوش کے تحت کاروائی کرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے حریف کو میری مینڑ پر قبضہ کرنے کی جرات ہی کیوں ہوئی، اس سوال پر غور کرتے کرتے وہ اس رائے پر پہنچا کہ اس کی وجہ حریف کے مقابلہ میں میری کمزوری ہے۔ میرا اور حریف کا اصل معاملہ مینڑ کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ میری پوزیشن میرے حریف کے مقابلہ میں اتنی زیادہ نہیں کہ وہ مجھ سے دبے اور میرے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرے۔ ٹھنڈے ذہن سے سوچنے کے بعد اس کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اگر وہ اپنی طاقت اور حیثیت کو بڑھا لے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد اس کے حریف کو اس کے اوپر دست اندازی کی جرات ہی نہ ہوگی۔ اب اس نے اپنے کھیتوں پر پہلے سے زیادہ محنت شروع کر دی جو طاقت وہ حریف کو برباد کرنے کی کوششوں میں لگاتا اسی طاقت کو اس نے خود اپنی تعمیر میں لگانا شروع کر دیا۔ اس نئی فکر نے اس کے اندر نیا حوصلہ جگا دیا۔ وہ نہ صرف اپنے کھیتوں میں زیادہ محنت کرنے لگا بلکہ کھیتی کے ساتھ کچھ اور قریپی کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس کے نئے شعور کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی زندگی کو از سر نو منظم کیا۔ وہ خرچ کو کم کرنے اور آمدنی کو بڑھانے کے اصول پر سختی سے عمل کرنے لگا۔ اسی کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم کی راہ پر لگا دیا۔ اس نے طے کر لیا کہ اپنے ہر بچہ کو اعلیٰ مرحلہ تک تعلیم دلائے گا۔ اس دوسرے شخص کو بھی اپنی کوششوں میں اسی طرح 20 سال لگ گئے جس طرح پہلے شخص کو 20 سال لگے تھے۔ مگر پہلے شخص کے لیے 20 سال بربادی کے ہم معنی تھا، جب کہ دوسرے شخص کے لیے 20 سال آبادی کے ہم معنی بن گیا۔ اس 20 سال میں اس کے بچے پڑھ لکھ کر اچھے عہدوں پر پہنچ چکے تھے۔ اس نے اپنی کھیتی اتنی بڑھالی تھی کہ اس کے یہاں ہل بیل کے بجائے ٹریکٹر چلنے لگا تھا۔ جس کسان سے اس کا مینڑ کا جھگڑا ہوا تھا اس کا وہ پورا کھیت اس نے مینڑ سمیت خرید لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page