Urdu book · راز حیات

اشتعال نہیں

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

جس آدمی نے مینڈ کا جھگڑا امینڈ پر طے کرنے کی کوشش کی وہ تباہ ہو گیا۔ اس کے برعکس، جس نے مینڈ کو چھوڑ کر دوسرے میدان میں مقابلہ کی کوشش کی وہ آخر کار نہ صرف مینڈ کا مالک بنا بلکہ حریف کا پورا کھیت اس کے قبضہ میں آ گیا۔ بجلی کا بلب جلتے جلتے بجھ جائے یا پنکھا چلتے چلتے رک جائے تو ہم بلب کو توڑ کر نہیں دیکھتے یا پنکھے سے نہیں الجھتے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بلب بجھنے اور پنکھا بند ہونے کی وجہ بلب اور پنکھے کے اندر نہیں ان کے باہر ہے۔ اور پھر جہاں سے فرق پڑا ہو وہاں درست کر کے اپنے بلب اور پنکھے کو دوبارہ چلا لیتے ہیں۔ انسانی معاملات بھی اکثر اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ بلب اور پنکھے کے معاملہ میں جو بات آدمی کبھی نہیں بھولتا اسی بات کو انسانی معاملہ میں ہمیشہ بھول جاتا ہے۔ آدمی کی یہ عام کمزوری ہے کہ جب بھی اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی مقام پر اپنا سر ٹکرانے لگتا ہے جہاں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ حالانکہ اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کہیں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ کہیں ہوتی ہے۔ "حال" کا ایک واقعہ اکثر "ماضی" کے کسی واقعہ کا نتیجہ ہوتا ہے ایک معاملہ میں کسی کی زیادتی اکثر حالات میں کسی اور معاملہ میں پائی جانے والی ایک صورت حال کے سبب سے وقوع میں آتی ہے۔ ایسی حالت میں بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائے وقوع پر سر نہ ٹکرائے۔ بلکہ اصل سبب کو معلوم کر کے بات کو وہاں بنانے کی کوشش کرے جہاں بات بگڑ جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا ہے جس میں وہ آج اپنے کو مبتلا پاتا ہے۔ ڈيگال ازم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈيگال (1970-1890) نے اس کی شاندار مثال پیش کی ہے۔ ڈيگال دسمبر 1958 میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page