اشتعال نہیں
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ خاص طور پر الجیریا میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔ فرانس نے اس کو کچلنے کے لیے تقریباً 25 لاکھ آدمی قتل کر دیے۔ اس کے باوجود الجیریا میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ صورت حال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویشناک بن گئی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں، الجیریا کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس میں روک بن گئے کہ وہ مستقبل کی مثبت پالیسیوں (Positive policies) کے بارے میں نقشہ بنانے سے زیادہ کچھ کر سکیں۔ (جلد 7، صفحہ 964) فرانس اپنے افریقی مقبوضات کو فرانس کا صوبہ (Province) کہتا تھا۔ وہ ان کی زبان اور کلچر کو اس حد تک بدل دینا چاہتا تھا کہ وہاں کے باشندے اپنے آپ کو فرانسیسی سمجھنے لگیں۔ مگر یہ منصوبہ فرانس کے لیے بہت مہنگا پڑا۔ عملاً یہ ممالک فرانس کا صوبہ نہ بن سکے اور اس غیر حقیقت پسندانہ کوشش نے خود فرانس کو ایک کمزور ملک بنا دیا۔ فرانس کی تمام بہترین طاقت مقبوضہ ممالک میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے میں استعمال ہونے لگی اور فرانس نے یورپ کی ایک عظیم طاقت (Great power) ہونے کی حیثیت کھودی۔ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ افریقہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں فرانس ایٹمی دوڑ میں پیچھے ہو گیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ چارلس ڈیگال نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی جنگ لڑنے کی کوشش فرانس کے لیے اس میں مانع ہو گئی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرے۔ چنانچہ ڈیگال نے الجیریا کو آزاد کر دیا۔ اور اس کے بعد مضبوط ایٹمی طاقت کو وجود میں لانے کی کوشش شروع کردی جو فرانس کی عظیم حیثیت کے لیے نئی بنیاد بن سکے۔ (جلد 4، صفحہ 905) ڈیگال نے معاملہ کو قومی ساکھ یا ذاتی قیادت سے الگ ہو کر دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد وہ اس رائے پر پہنچے کہ اس مسئلہ کا حقیقت پسندانہ حل صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے۔ تاہم فرانس کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ فرانس کے قومی وقار (National prestige) کا مسئلہ تھا اور قومی وقار ایسی چیز ہے کہ تو میں لڑ کر ہلاک ہو جاتی ہیں مگر وہ اپنے وقار کو کھونا برداشت نہیں کرتے۔ یہ یقینی تھا کہ جو شخص اس معاملہ میں قومی وقار کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader